پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے متعدد اضلاع میں مسلسل ہونے والی موسلادھار بارش نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں، جہاں کئی علاقوں میں سڑکیں پانی میں ڈوب گئیں اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پشاور میں بارش کا پانی سڑکوں اور گلیوں میں جمع ہو کر تالاب کا منظر پیش کرنے لگا، جبکہ نکاسی آب کا نظام بھی کئی مقامات پر ناکام دکھائی دیا، جس کے باعث نالیاں ابل پڑیں اور آمد و رفت متاثر ہوئی۔
چارسدہ میں بھی رات بھر جاری رہنے والی بارش نے شہری زندگی کو مفلوج کر دیا۔ شہر اور گردونواح میں سڑکیں زیرِ آب آ گئیں، جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی گھروں اور گلیوں میں داخل ہو گیا۔ مقامی افراد کے مطابق بارشوں سے کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے کاشتکار پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اس صورتحال میں ریسکیو 1122 کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
ادھر ضلع خیبر کی تینوں تحصیلوں میں شدید بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جبکہ پاک افغان شاہراہ متعدد مقامات پر بند ہو گئی۔ جمرود کے علاقے میں بارش کے باعث ایک کمرہ منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا، جسے فوری طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
لنڈی کوتل میں سیلابی صورتحال کے باعث شاہراہ کئی مقامات پر بند ہو گئی، جس سے نہ صرف عام شہری بلکہ سرکاری ملازمین اور طلبہ کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ امتحانات دینے والے طلبہ کی بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔
نوشہرہ میں بھی بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جبکہ متعدد فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ اسی طرح صوابی اور مالاکنڈ میں بارش نے موسم کو ٹھنڈا تو کر دیا، تاہم نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور پھسلن کے باعث شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مالاکنڈ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض کاشتکاروں نے بارش کو فصلوں کے لیے مفید قرار دیا ہے۔ تاہم بجلی کی آنکھ مچولی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ہری پور اور اس کے نواحی علاقوں خانپور، غازی اور دیگر تحصیلوں میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز تک مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔