غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں اسرائیل کی فوج کو ایک نئے اور خاموش بحران کا سامنا ہے، جہاں بڑی تعداد میں اہلکار ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق حالیہ مہینوں میں فوجیوں کے اندر ذہنی صحت کے مسائل میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک واقعے میں ایک اسرائیلی فوجی نے مبینہ طور پر عمارت سے چھلانگ لگا کر اپنی جان لے لی، جس نے صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد سے فوج کے اندر خودکشی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ 2025 کے دوران اب تک درجنوں اہلکار اپنی زندگی کا خاتمہ کر چکے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق خودکشی کرنے والوں میں بڑی تعداد ان فوجیوں کی ہے جو براہِ راست محاذ پر تعینات رہے۔
میڈیا رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ تقریباً 78 فیصد متاثرہ اہلکار وہ تھے جو اگلے مورچوں پر جنگی کارروائیوں میں شریک رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میدانِ جنگ کے تجربات ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل جنگی دباؤ، طویل تعیناتی اور پرتشدد مناظر کا سامنا فوجیوں کی نفسیاتی حالت پر منفی اثر ڈال رہا ہے، جس کے باعث فوج کو اندرونی سطح پر ایک سنجیدہ چیلنج درپیش ہے۔