حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
خیبر پختونخوا سمیت تین صوبوں میں رات آٹھ بجے کے بعد سناٹا، کاروباری اوقات محدود، سخت پابندیوں کا نفاذ شروع Home / پاکستان /

خیبر پختونخوا سمیت تین صوبوں میں رات آٹھ بجے کے بعد سناٹا، کاروباری اوقات محدود، سخت پابندیوں کا نفاذ شروع

ایڈیٹر - 06/04/2026
 خیبر پختونخوا سمیت تین صوبوں میں رات آٹھ بجے کے بعد  سناٹا، کاروباری اوقات محدود، سخت پابندیوں کا نفاذ شروع

توانائی کے بڑھتے بحران اور عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے بلوچستان، خیبر پختونخوا  اور گلگت بلتستان میں کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار محدود کرنے سمیت اہم اقدامات پر باضابطہ عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

حکومت بلوچستان کے فیصلوں کے تحت وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی  کی زیر صدارت اجلاس کے بعد محکمہ داخلہ نے مارکیٹوں، شاپنگ سینٹرز، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں نمایاں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔ ہدایات کے مطابق تمام مارکیٹیں اور تجارتی مراکز رات 8 بجے تک بند کر دیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں ختم کرنا ہوں گی۔ البتہ فارمیسیز، تندور اور نانبائی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔

صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ توانائی کے استعمال کو کم کر کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔

مزید برآں، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں عوامی ریلیف کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کے نتیجے میں ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کی بچت ممکن بنائی گئی ہے۔ انہوں نے چھوٹے کسانوں کے لیے کسان کارڈ کے ذریعے مالی معاونت اور پبلک ٹرانسپورٹ میں پنک اور گرین بس سروس کو ایک ماہ کے لیے مفت کرنے کا بھی اعلان کیا۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا ممیں بھی کاروباری اوقات کے حوالے سے نئی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں مارکیٹیں رات 9 بجے جبکہ دیگر اضلاع میں رات 8 بجے بند ہوں گی۔ ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور کیفے رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے، تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی سہولت برقرار رہے گی۔

اسی طرح شادی ہالز، نجی دفاتر، بینکس، جم، اکیڈمیز اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو بھی ان اوقات کار کی پابندی کرنا ہوگی۔ غیر ضروری لائٹنگ، بل بورڈز، ایل ای ڈی اسکرینز اور سائن بورڈز بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ کاروباری اوقات کے بعد اے سی، لفٹس اور ایسکلیٹرز کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

گلگت بلتستان میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کے تحت تمام بازار رات 8 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ شادی تقریبات کو رات 10 بجے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ تاہم میڈیکل سٹورز اور دیگر ضروری خدمات کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

یہ تمام احکامات 6 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہو چکے ہیں، اور حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال کے ساتھ ساتھ عوام کو ممکنہ معاشی دباؤ سے بچانا ہے۔