ایران نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عالمی تجارتی راستوں کو بند کرنے کی ممکنہ وارننگ دے دی ہے، جس سے بین الاقوامی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی رہنما علی اکبر ولایتی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے کوئی نیا جارحانہ اقدام کیا گیا تو مزاحمتی اتحاد اہم بحری گزرگاہوں کو بند کر سکتا ہے، جن میں آبنائے ہرمز کے ساتھ ساتھ باب المندب بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ دونوں سمندری راستے عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہیں، اور ان کی بندش عالمی سپلائی چین کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اس صورتحال میں نہ صرف توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ عالمی معیشت بھی ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بنیادی ڈھانچے، بشمول بجلی گھروں اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور اہم بحری راستے متاثر ہوئے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تجارت اور توانائی کے شعبے کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال نے یہ سوال ایک بار پھر اٹھا دیا ہے کہ آیا دنیا ایک نئے معاشی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے، یا سفارتی کوششیں اس ممکنہ تصادم کو ٹالنے میں کامیاب ہو سکیں گی۔