اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدنی کو باضابطہ طور پر ٹیکس نظام میں شامل کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، وہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس جن کے فالوورز کی تعداد 50 ہزار یا اس سے زیادہ ہے، یا جن کی ویڈیوز سہ ماہی بنیادوں پر کم از کم 12 ہزار 500 ویوز حاصل کرتی ہیں، اب ٹیکس حکام کی نظر میں آئیں گے۔ ایسے افراد اور پلیٹ فارمز کو اپنی آمدنی ظاہر کرنا ہوگی اور متعلقہ ٹیکس قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔
ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی آن لائن آمدنی کو قومی ٹیکس نیٹ کا حصہ بنانا اور ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل کریئیٹرز، یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو بھی دیگر شعبوں کی طرح باقاعدہ ٹیکس دہندگان میں شامل کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، یہ پیش رفت ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور مالی شفافیت کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس سے چھوٹے کریئیٹرز پر ممکنہ مالی دباؤ کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
ایف بی آر کی جانب سے آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید واضح گائیڈ لائنز اور طریقہ کار جاری کیے جانے کا امکان ہے، تاکہ متعلقہ افراد آسانی سے اپنی آمدنی کا اندراج اور ٹیکس ادائیگی یقینی بنا سکیں۔