خیبرپختونخوا میں نویں جماعت کے اسلامیات کے پیپر نے امتحان کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پشاور تعلیمی بورڈ کے زیر انتظام یہ پرچہ شروع ہوتے ہی بورڈ کے قریب فوٹو سٹیٹ کاؤنٹرز پر حل شدہ شکل میں دستیاب ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق 250 روپے میں فروخت ہونے والا پیپر ہر کسی کو دستیاب تھا جس سے واضح ہوتا ہے کہ پیپر شروع ہونے سے پہلے ہی لیک ہو گیا تھا اور بعد میں اسے حل شدہ شکل میں مارکیٹ میں فروخت کے لیے رکھ دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ نہ صرف امتحانی عمل کی شفافیت کو متاثر کرتا ہے بلکہ طلباء اور والدین کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث بنا ہے۔ طلباء نے انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاہم ابھی تک کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات طلباء کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، امتحانی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔