پشاور ۔ خیبر پختونخواحکومت نے صحت کارڈ پلس پروگرام کے بجٹ میں اضافہ کر دیا حکام کے مطابق حکومت پہلے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کو ماہانہ 3 ارب روپے فراہم کرتی تھی جو اس اسکیم کو چلاتی ہے۔
دسمبر میں اس رقم کو بڑھا کر 4 ارب روپے ماہانہ کر دیا گیا تا کہ پینل میں شامل ہسپتالوں کے بقایاجات ادا کیے جائیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس پروگرام کا سالانہ بجٹ 36 ارب روپے سے بڑھا کر 48 ارب روپے کر دیا گیا ہے، تاہم موجودہ مالی سال کیلئے حکومت نے 41 ارب روپے مختص کیسے ہیں جس میں جولائی سے نومبر تک پہلے پانچ ماہ میں ہر ماہ 3 ارب روپے جاری کیے گئے ۔
پروگرام کے سالانہ اخراجات کا تخمینہ 34 سے 35 ارب روپے ہے جبکہ باقی رقم پرانے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ کئی ہسپتالوں نے شکایت کی ہے کہ انشورنس کمپنی کی جانب سے ادا ئیگی میں تاخیر ہورہی ہے جس سے علاج کی سہولیات متاثر ہورہی ہیں۔ اس وقت 700 ہسپتال اس پروگرام میں شامل ہیں
جن میں سے 169 خیبر پختونخوا میں ہیں۔ فروری 2016 میں آغاز کے بعد سے اب تک تقریبا 49لاکھ 80 ہزار مریض 135 ارب روپے مالیت کی مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات حاصل کر چکے ہیں۔
یہ اسکیم پورے صوبے کی آبادی کو کور کرتی ہے جس میں 1 کروڑ 7 لاکھ خاندان اور تقریبا 3 کروڑ 45 لاکھ افراد شامل ہیں۔
حکام کے مطابق اگر فنڈ ز ہر وقت جاری کیے جائیں تو ہسپتال مفت علاج کی سہولت جاری رکھ سکیں گے اور مریضوں کو پشاور جانے کے بجائے اپنے قریبی ہسپتالوں میں علاج مل سکے گا۔