واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی اوقیانوس کے دفاعی اتحاد (نیٹو) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک غیر مؤثر کمزور اتحاد اور کاغذی شیر قرار دیا ہے، اور عندیہ دیا ہے کہ امریکا اس سے علیحدگی کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق برطانوی جریدے ٹیلی گراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے نیٹو کی افادیت پر شکوک رکھتے ہیں۔ ان کے بقول نہ صرف وہ خود اس اتحاد سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی اس کی کمزوریوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع پر نیٹو کو امریکا کی حمایت میں خود آگے آنا چاہیے تھا، جس طرح امریکا نے یوکرین تنازع میں بغیر کسی مطالبے کے اتحاد کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کا معاملہ براہ راست امریکا کا نہیں تھا، اس کے باوجود واشنگٹن نے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی ذمہ داری نبھائی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا ہمیشہ اپنے اتحادیوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہا ہے، تاہم مشکل وقت میں نیٹو کی جانب سے اسی جذبے کا مظاہرہ دیکھنے میں نہیں آیا، جو باعث تشویش ہے۔