خار باجوڑ میں عوامی مفادات کے تحفظ اور اشیائے خورونوش کی معیار بندی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ یہ کارروائی خیبر پختونخوا حکومت کے عوامی ایجنڈے کے تحت ڈپٹی کمشنر باجوڑ جناب شاہد علی خان کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر (ہیڈکوارٹر) خار ڈاکٹر صادق علی کی قیادت میں عمل میں لائی گئی۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر خار ڈاکٹر صادق علی نے اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر خار، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر ناواگئی اور محکمہ لائیو اسٹاک، فوڈ اور ایگریکلچر کے افسران کے ہمراہ خار بازار کا تفصیلی دورہ کیا اور مختلف کاروباری مراکز کا معائنہ کیا۔
معائنے کے دوران قصابوں کی دکانوں پر نرخ نامہ، صفائی، گوشت کے معیار اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد کو چیک کیا گیا۔ زائد قیمت وصول کرنے اور محکمہ لائیو اسٹاک کی جانچ میں ناقص گوشت کی نشاندہی پر ایک قصاب کی دکان سیل کر دی گئی، جبکہ دو قصابوں کو جرمانے کے ساتھ سات روز کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔
اسی طرح پھل اور سبزی فروشوں کی دکانوں پر نرخ نامہ اور اشیاء کے معیار کی جانچ کی گئی، جو مجموعی طور پر تسلی بخش پائی گئیں۔ انتظامیہ نے دکانداروں کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ بھی سرکاری نرخوں اور معیار کا خاص خیال رکھیں۔
کریانہ اسٹورز میں نرخ نامہ، صفائی، اشیائے خورونوش کے معیار اور ایکسپائری تاریخ کی جانچ کی گئی۔ اس دوران تیار چکن کی ایک دکان کو ناقص صفائی اور غیر معیاری حالات پر سیل کر دیا گیا۔ مزید برآں زندہ مرغیوں کی دکانوں پر مرغیوں کے وزن اور نرخوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں ایک دکان کو زائد قیمت وصول کرنے پر بند کر دیا گیا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر خار ڈاکٹر صادق علی نے واضح کیا کہ عوام کو معیاری اور سستی اشیائے ضروریہ کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے دکانداروں کو خبردار کیا کہ سرکاری نرخوں، صفائی اور معیار پر سمجھوتہ کرنے والوں کے خلاف آئندہ بھی سخت کارروائی جاری رہے گی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس طرح کے معائنے اور کریک ڈاؤن کا سلسلہ آئندہ بھی باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کا مکمل خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔