حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
یورپ کا راستہ یا موت کا سفر؟ لیبیا کے ساحل پر 53 جانیں ضائع Home / بلاگز /

یورپ کا راستہ یا موت کا سفر؟ لیبیا کے ساحل پر 53 جانیں ضائع

انورزادہ گلیار

ایڈیٹر - 14/02/2026
یورپ کا راستہ یا موت کا سفر؟ لیبیا کے ساحل پر 53 جانیں ضائع

 بحیرۂ روم ایک بار پھر لاشوں کا گواہ بن گیا۔ لیبیا کے ساحل کے قریب کشتی الٹنے سے کم از کم 53 افراد جاں بحق ہو گئے۔ یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں بلکہ ایک طویل اور المناک سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جہاں غربت، بے روزگاری، جنگ، سیاسی عدم استحکام اور بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والے انسان سمندر کی بے رحم لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی یہ اموات محض حادثات ہیں یا عالمی بے حسی اور ناکام پالیسیوں کا نتیجہ؟
لیبیا سے اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کی جانب بحیرۂ روم کا راستہ دنیا کے خطرناک ترین مہاجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ انسانی اسمگلروں کے رحم و کرم پر سوار درجنوں افراد بوسیدہ کشتیوں میں زندگی اور موت کے درمیان سفر کرتے ہیں۔ اکثر یہ کشتیاں گنجائش سے زیادہ افراد سے بھری ہوتی ہیں، حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور سمندری حالات کا کوئی درست اندازہ نہیں لگایا جاتا۔ ان افراد میں نوجوان، خواتین اور بعض اوقات بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کا جرم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاندانوں کے لیے بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں، مگر یہ خواب اکثر سمندر کی گہرائیوں میں دفن ہو جاتا ہے۔
ہر سانحے کے بعد افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے، تعزیتی بیانات جاری ہوتے ہیں، مگر زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ ایک جانب افریقی اور ایشیائی ممالک میں معاشی بدحالی، سیاسی عدم استحکام اور تنازعات لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرتے ہیں تو دوسری جانب یورپی ممالک کی سخت سرحدی پالیسیاں قانونی راستے محدود کر دیتی ہیں، نتیجتاً لوگ غیر قانونی اور خطرناک راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیبیا میں سیاسی افراتفری اور انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورکس بھی اس المیے کی بڑی وجہ ہیں۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ مہاجرین کو لیبیا میں بدترین حالات، تشدد اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کے باوجود عالمی برادری ایک مؤثر اور دیرپا حل پیش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
یہ کہنا کہ “یورپ نے 53 افراد کی جان لے لی” دراصل ایک علامتی اظہار ہے جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عالمی طاقتیں مہاجرت کے بنیادی اسباب کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں۔ یورپی یونین نے سرحدی نگرانی سخت کی ہے مگر محفوظ اور قانونی ہجرت کے مواقع محدود ہیں۔ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز بھی کئی بار سیاسی دباؤ کا شکار نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف مہاجرین کے آبائی ممالک میں بدعنوانی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور مواقع کی کمی اس بحران کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ جب تک مقامی سطح پر ترقی، روزگار اور امن کو یقینی نہیں بنایا جاتا، یہ خطرناک سفر جاری رہے گا۔
یہ 53 افراد محض ایک عدد نہیں بلکہ 53 خاندانوں کی امیدوں کے چراغ ہیں جو بجھ گئے۔ ہر لاش کے پیچھے ایک کہانی ہے، کسی ماں کا بیٹا، کسی بچے کا باپ، کسی بہن کا بھائی۔ بدقسمتی سے یہ کہانیاں چند دنوں کی سرخی بن کر رہ جاتی ہیں اور پھر دنیا کسی نئے سانحے کی منتظر ہو جاتی ہے۔ مسئلہ صرف کشتی کے الٹنے کا نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی نظام کا ہے جہاں ترقی اور مواقع کی غیر مساوی تقسیم لوگوں کو موت کے سفر پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر عالمی برادری نے مہاجرت کے قانونی راستے فراہم نہ کیے، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کی اور متاثرہ ممالک میں پائیدار ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ اٹھائے تو بحیرۂ روم کی لہریں اسی طرح انسانی لاشیں کنارے پر لاتی رہیں گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا اس بار بھی چند تعزیتی بیانات کے بعد خاموش ہو جائے گی یا اس انسانی المیے کے مستقل حل کی جانب سنجیدہ قدم اٹھائے جائیں گے۔