نثار الحق
ادب کسی بھی معاشرے کی روح ہوتا ہے، اور کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے فکری وقار، تحقیقی بصیرت اور تخلیقی شعور سے اس روح کو تازگی عطا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر انور نگار انہی اہلِ قلم میں سے ایک ہیں جن کا تعلق ضلع باجوڑ کی تحصیل خار کے گاؤں بتائی علیزو سے ہے۔ انہوں نے نہ صرف پشتو ادب میں اپنی تخلیقی و تحقیقی کاوشوں سے نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ باجوڑ کی ادبی شناخت کو علمی بنیادوں پر استوار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر انور نگار کی پہلی تصنیف شعری مجموعہ “اورورکے (یعنی جگنو) کے نام سے منظر عام پر آئی۔ یہ مجموعہ ترقی پسند فکر اور رومانوی احساسات کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی شاعری میں جذبے کی حرارت اور شعور کی روشنی ساتھ ساتھ چلتی ہے، جس سے قاری کو فکری آسودگی اور جمالیاتی تسکین دونوں میسر آتی ہیں۔
ان کی دوسری کتاب “تراشلی ٹکی (یعنی تراشے الفاظ) ان کے ایم فل کے تحقیقی مقالوں پر مشتمل ہے۔ اس تصنیف میں انہوں نے تحقیق کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے علمی مباحث کو مدلل اور منظم انداز میں پیش کیا، جو ان کی سنجیدہ علمی طبیعت کا مظہر ہے۔
تیسری کتاب “خورمک (یعنی اوس) دراصل باجوڑ کے معروف عوامی شاعر سرگند خان کی شاعری کی تالیف ہے، جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے جامع مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ اس کتاب میں انہوں نے نہ صرف شاعر کے کلام کو مرتب کیا بلکہ اس کے فنی و فکری پہلوؤں پر روشنی ڈال کر اسے تنقیدی تناظر بھی فراہم کیا۔
ان کی چوتھی کتاب باجوڑ: تاریخ، ثقافت اور ادب ان کے ایم فل مقالے کی اشاعتی صورت ہے۔ یہ اس نوعیت کی پہلی باقاعدہ اور مستند تصنیف ہے جس میں باجوڑ کی تاریخ، ثقافتی روایت اور ادبی ارتقا کو سندی تحقیق کے اصولوں کے مطابق قلم بند کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مقامی تاریخ کا معتبر حوالہ ہے بلکہ آئندہ محققین کے لیے بھی سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
ڈاکٹر انور نگار نے اردو کی معروف کتاب تہذیبی عناصر کا پشتو ترجمہ تہذیبی توکی کے عنوان سے کیا۔ یہ ترجمہ ان کی لسانی مہارت اور تہذیبی شعور کا عکاس ہے، جس کے ذریعے انہوں نے علمی سرمائے کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کر کے فکری مکالمے کو وسعت دی۔
سن 2000 کے بعد سے وہ مختلف ادبی تنظیموں میں صدر اور جنرل سیکریٹری کی ذمہ داریاں نبھاتے آ رہے ہیں۔ اس وقت وہ باجوڑ کلچر ایسوسی ایشن کے صدر ہیں اور باجوڑ میں بڑی ادبی سرگرمیوں کے روحِ رواں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں ادبی مجالس، سیمینارز اور ثقافتی تقریبات نے باجوڑ کی ادبی فضا کو نئی توانائی عطا کی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے حال ہی میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی ہے، جس میں انہوں نے پشتو ادب کے معروف ادیب حمزہ شینواری کے شہرۂ آفاق ناول نوی چپی یعنی نئی موجیں کا فنی اور فکری جائزہ پیش کیا۔ ان کی اس تحقیق کو علما اور ناقدین نے قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، کیونکہ اس میں ناول کے اسلوب، کردار نگاری، فکری جہات اور عصری معنویت کو گہرائی سے پرکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر انور نگار کی دو مزید کتب، جو نثری مضامین پر مشتمل ہیں، زیرِ طباعت ہیں۔ توقع ہے کہ یہ تصانیف بھی ان کی سابقہ علمی روایت کو آگے بڑھائیں گی اور ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے فکری غذا فراہم کریں گی۔
ڈاکٹر انور نگار کی شخصیت تخلیق، تحقیق اور تنظیمی خدمت کا حسین امتزاج ہے۔ وہ نہ صرف ایک شاعر اور محقق ہیں بلکہ ایک ایسے ادبی راہنما بھی ہیں جو اپنے خطے کی فکری شناخت کو محفوظ اور مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کا علمی سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ دیہی پس منظر سے اٹھنے والی آواز بھی اگر خلوص، محنت اور بصیرت سے ہم آہنگ ہو تو قومی ادب میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہے۔