پشاور۔ تھانہ شاو قبول کے علاقے بازار بہادر شاہ میں 10 ہزار روپے کے تنازعہ پر سفاک قاتل نے 70 سالہ مارکیٹ چوکیدار کو ذبح کر دیا پولیس نے اندھے قتل کا سراغ لگا کر قاتل کو چھری سمیت گرفتار کر لیا جس نے ابتدائی تفتیش میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے تمام حقائق سے پردہ چاک کر دیا اس ضمن میں گزشتہ روز ایس پی کی عقیق شاہ نے ایس ایچ او شاہ قبول حشمتحان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 2 جولائی کو اطلاع ملی کہ بازار بہادر شاہ شاہ قبول کے چوکیدار ممتاز خان کو نامعلوم افراد نے چھری کے وار کر کے شدید زخمی کیا ہے جس پر پولیس موقع پر پہنچ اور مجروح کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں و220 روز موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم تو ڑگیا پولیس کے مطابق واقعہ کی رپورٹ درج کر کے تفتیش شروع کی گئی تو انکشاف ہوا کہ ملزم جو مارکیٹ میں واقع موٹر سائیکل مکینک کا شاگرد ہے اس نے 10 ہزار روپے کے تنازعہ پر بزرگ چوکیدار کو ذبح کیا جس پر پولیس حرکت میں آگئی اور فوری کاروائی کرتے ہوئے قاتل افتخار عرف رضوان کو گر فتار کر لیا جس نے تمام حقائق سے پردہ چاک کر دیا جبکہ پولیس نے مزید تفتیش شروع کر دی۔
مقتول نے قاتل کو 27 ہزار روپے قرض دیئے تھے
17 ہزار واپس دے چکا تھا جبکہ 10 ہزار پر تنازعہ تھا، ابتدائی رپورٹ
پشاور ( کرائمز رپورٹر) شاہ قبول پولیس نے 70 سالہ چوکیدار کے قتل کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی پولیس کے مطابق مقتول نے 27 ہزار روپے قاتل کو قرض دیئے تھے جس میں 17 ہزار روپے نے اس واپس کئے لیکن 10 ہزار روپے واپس نہیں دے رہا تھا پولیس کے مطابق مقتول نے زخمی حالت میں بیان دیا تھا کہ ملزم نے وقوعہ کے روز آیا تو اس نے رقم کا مطالبہ کیا جس پر وہ طیش میں آگیا اور اس کی سبزی کاٹنے والی چھری اٹھا کر گلے میں پھیر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گیا اور پھر بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔