حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پنجاب سے پشاور "مردار گوشت مافیا" سرگرم Home / پاکستان /

پنجاب سے پشاور "مردار گوشت مافیا" سرگرم

ایڈیٹر - 02/08/2025
پنجاب سے پشاور

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں عوام کی صحت سے سنگین کھلواڑ جاری، پنجاب سے مضر صحت مردار گوشت کی ترسیل کا کام کئی سالوں سے خفیہ طور پر جاری ہے۔ تحقیقاتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث گروہ کو مقامی طور پر "کالا گینگ" کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کے کم از کم 10 قصائی براہ راست شریک ہیں۔

مردار گوشت کی پنجاب سے خفیہ ترسیل

ذرائع کے مطابق، کالا گینگ کے افراد روزانہ علی الصبح 4 سے 5 بجے کے درمیان پنجاب کے علاقوں فیصل آباد یا لاہور سے پہلے سے ذبح شدہ مردار جانوروں کا کنٹینر بذریعہ موٹروے پشاور منتقل کرتے ہیں۔

کنٹینر کی ترسیل گھنٹہ گھر پشاور میں خفیہ مقام پر ہوتی ہے جہاں ان مردہ جانوروں سے قیمہ، سیخ کباب، چپلی کباب اور دیگر اشیاء تیار کی جاتی ہیں، اور انہیں پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں سپلائی کیا جاتا ہے۔

بڑے ہوٹلز بھی ملوث، سستے داموں خریداری

انکشاف ہوا ہے کہ پشاور کے بڑے ہوٹلز اور ریسٹورنٹس بھی اسی گینگ سے گوشت سستے داموں خرید رہے ہیں۔ عوام کو پیش کیا جانے والا قیمہ اور کباب اکثر اسی مردار گوشت سے تیار کیا جاتا ہے، جو صحت کے لیے نہایت مضر ہے اور خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔

محکمہ خوراک کے افسران "سہولت کار"

خبر کے مطابق، اس پورے دھندے کو محکمہ خوراک کے بعض کرپٹ اہلکاروں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ ان اہلکاروں کے تبادلے کے باوجود وہ اب بھی اسی مقام پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کو ماہانہ کمیشن اور گوشت کی کھیپ کے بدلے سہولیات دی جاتی ہیں، جس کے بدلے وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔
شواہد مکمل، کارروائی قریب 
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ "کالا گینگ" کے تمام کارندوں کے نام اور گوشت کی ترسیل کے شواہد  موجود ہیں۔ بہت جلد اس نیٹ ورک کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کی توقع کی جا رہی ہے، جس میں نہ صرف قصاب بلکہ محکمہ خوراک کے افسران بھی شامل ہوں گے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے لاہور سے بون لیس چکن گوشت لایا جاتا ہے جو کہ بس نمبر 688 نیازی اڈا جی ٹی روڈ چلڈرن ہسپتال سے اگے ایک اڈا منشی ( چھوٹا نامی ) کے پاس پہنچایا جاتا ہے جو کہ سارا حساب کتاب رکھتا ہے فی کاٹن 600 روپے پہ لیے جاتے ہیں اور روزانہ 200 کاٹن مبینہ طور پر لائے جاتے ہیں کالا گینگ کو محکمہ خوراک کے اہم اہلکاروں کی سرپرستی بھی حاصل ہے اور ان کو اپنے حصے کی رقم دفتروں تک پہنچانے کا انکشاف بھی ہوا ہے پہلے بھی کئی مرتبہ ان اہلکاروں کے خلاف شکایت تحریری طور پر ا چکی ہیں مگر یہ وہ اہلکار ہیں جو اپنے اقا کو ہر ٹائم خوش رکھتے ہیں اسی وجہ سے ان کو اچھی پوسٹیں دی جاتی ہیں جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو شہریوں کی جانوں کے ساتھ کھیل کھیل رہے ہیں

شہریوں کو چاہیے کہ وہ سستے قیمے اور مشکوک کباب سے پرہیز کریں، اور صرف مصدقہ قصائیوں اور رجسٹرڈ ہوٹلز سے گوشت خریدیں۔ مضر صحت گوشت کا استعمال نہ صرف انسانی صحت بلکہ معاشرتی اعتماد کو بھی متاثر کر رہا ہے
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری، اور سیکریٹری فوڈ سے فوری نوٹس لینے اور اس پورے نیٹ ورک کے خلاف شفاف اور بے رحم کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو اس زہر آلود گوشت سے نجات دلائی جا سکے۔