حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
مطالبات و مشترکہ اعلامیہ آمن پاسون باجوڑ: Home / پاکستان /

مطالبات و مشترکہ اعلامیہ آمن پاسون باجوڑ:

ایڈیٹر - 13/07/2025
مطالبات و مشترکہ اعلامیہ آمن پاسون باجوڑ:

مطالبات و مشترکہ اعلامیہ آمن پاسون باجوڑ:
1:فرش،خار بازار ،شنڈئ موڑ پھاٹک اور مضافات میں تمام خونی وارداتوں کا ریکارڈ سی سی ٹی کیمروں میں ضرور محفوظ ہوگا. چوری چپکےکس کی ایماء پر کیمرے ہٹایے جاچکے ہیں. اس ریکارڈ کو باجوڑ کے قومی و سیاسی قیادت سے شیئر کیا جائے. ریاستی ادارے اس کے زمہ دار ہیں، لہذا ریاستی ادارے ظالمانہ اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کرکے7 دنوں کے اندر اندر آمن و آمان کے قیام کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں. ایسے اقدامات جس سےعوام مطمئن ہوں.
2:کسی بھی کاروائی سے پہلے پاک فوج عوام کو اعتماد میں لیں اور کاروائی بھی ایسی ہو کہ عام عوام کی جان و مال کی تحفظ یقینی ہو.
3:عوام کسی بھی صورت ایسے آپریشن کے لیے تیار نہیں جس میں بے گناہ شہریوں کا نقصان ہو اور دوبارہ آئ ڈی پیز بنیں.
4:منظم ڈاکہ زنی اور بھتہ خوری  معمول بن چکا ہے. ریاستی ادارے اس پر خاموش ہیں جس سے عوام کے زہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں لہذا بھتہ خوری اور رات کے وقت منظم چوری کے واقعات فی الفور بند کیے جائیں.
5: 2005 سے اب تک دہشت گردی کے واقعات شہید ہونے والے تمام شہدا کو شریعت کے مطابق دیت دیا جائے. جو کہ 100 اونٹوں کی قیمیت کے برابر ہو. بصورت دیگر آمن جرگہ وکلاء تنظیموں کی خدمات حاصل کر کے عدالت کے ذریعے یہ رقم حاصل کرنے کے لیے اقدامات کریں گے. 
اگر 7 دنوں کے اندر اندر ریاستی اداروں نے مندرجہ بالا مطالبات تسلیم نہیں کیے تو باجوڑ آمن جرگہ درج ذیل اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا. 
1: باجوڑ کے تمام قبائل مقتدر ریاستی اداروں سے مکمل بائیکاٹ کرے گا. 
2:باجوڑ میں موجود تمام منرلز کے کانوں کو بند کردیں گے. یہ اہلیان باجوڑ کی ملکیت ہے اور کسی کو اس پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے. بصورت دیگر اس کی حفاظت کے لیے اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہوں گے.
3: اگر ریاست آمن و آمان کے قیام میں پھر بھی ناکام رہا تو اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ اٹھانے پر مجبور ہوں گے. 
4:واردات کی جگہ پر اگر کسی شہری کے قاتل کو مار ڈالا گیا تو قوم مجموعی طور پر اس کی پشت پناہی کرے گی. اس کے خلاف کوئ ایف آئی آر درج نہیں ہوگا. 
5: باجوڑ کے تمام عوام دہشت گردی کے اس جنگ میں کسی فریق کا سہولت کار نہیں بنے گا. اگر کوئ بھی شخص سہولت کار بنا تو باقی عوام سہولت کاروں سے مکمل سماجی ومعاشی بائیکاٹ کرے گا.
وزیرستان سے لیکر باجوڑ تک ایک کروڑ قبایلی عوام کا ایک ہی موقف اور بیانیہ ہے کہ گذشتہ 25 سالوں سے جاری نام نہاد  ڈالری جنگ کو مزید کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے. لہذا حکومت وقت، فوج اور ریاستی ادارے اس جنگ کو فی الفور ختم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں.
7: افغانستان کی امارت اسلامی، پاکستانی حکمران اور فوجی قیادت بدآمنی کے اس مسلے کا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل نکالیں.
8؛ امریکی ایماء پر ڈالری جنگ کسی بھی صورت قبول نہیں. باجوڑ قامی جرگہ عنقریب تمام قبایلی عوام، صوبے اور ملک کے تمام سیاسی قیادت کے مشاورت سے اسلام آباد میں ایک فیصلہ کن آمن مارچ (پاسون) کا اعلان کرے گا.