ضلع باجوڑ میں "امن پاسون" کے عنوان سے ایک بڑا اور تاریخی اجتماع منعقد ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں تمام سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں، قبائلی مشران، عوامی نمائندوں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ اس دن باجوڑ کے تمام بازار بند رہے اور فضا مکمل طور پر پرامن رہی۔
شرکاء نے واضح کیا کہ وہ اب مزید بدامنی، دھماکوں اور غیر یقینی حالات کو برداشت نہیں کریں گے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ علاقے میں امن، تعلیم، روزگار اور انصاف فراہم کیا جائے۔ ضلع بھر کے مختلف علاقوں سے لوگ دور دور سے امن پاسون میں شرکت کے لیے آئے، جس سے اس اجتماع کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔
اجتماع کے دوران باجوڑ کے ان تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے امن، قانون، اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ دیا۔ مقررین نے کہا کہ باجوڑ کی مٹی نے بار بار اپنے بیٹے کھوئے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہ جانے دیا جائے۔ یہ اجتماع باجوڑ کے شہداء کے لیے ایک اجتماعی دعا اور امن کی تجدیدِ عہد تھا۔
پاکستان تحریک انصاف کے ممبر صوبائی اسمبلی انور زیب خان نے نہایت جذباتی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا:
"ہم کب تک اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے؟ کب تک ہمارے گھروں میں ماتم ہوتا رہے گا؟ ریاست کو اب فیصلہ کرنا ہوگا!"
خطاب کے دوران انہوں نے اپنا گریبان پھاڑ دیا اور کہا کہ اگر حکومت باجوڑ کے عوام کو تحفظ نہیں دے سکتی تو کھلے الفاظ میں بتا دے۔ ان کے جذباتی انداز پر شرکاء نے بھی نعرے لگا کر اظہارِ یکجہتی کیا۔
مولانا عبدالرشید نے کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ امن کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، ریاست کو ان کے آئینی حقوق دینا ہوں گے۔ گل افضل خان نے کہا کہ ہم شہید مولانا خان زیب کے مشن کو جاری رکھیں گے۔ مولانا وحید گل نے کہا کہ دینی طبقہ ہمیشہ امن کا علمبردار رہا ہے۔ اورنگزیب انقلابی نے کہا کہ ہمیں جنگ نہیں بلکہ تعلیم اور ترقی چاہیے۔ ڈاکٹر حمید نے کہا کہ یہ اجتماع عوام کے امن اور انصاف کے مطالبے کی نمائندگی ہے۔ ناظم حلیل نے کہا کہ باجوڑ کے لوگ مکمل طور پر امن کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔ سب ڈویژن ناظم حار حاجی سید بادشاہ نے کہا کہ ریاستی اداروں کو اب عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی اخون ذادہ چٹان نے کہا کہ باجوڑ کے عوام کی قربانیاں مسلسل نظرانداز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انضمام کے بعد بھی ہمیں امن نہیں ملا تو یہ ریاستی ناکامی ہے۔ پیپلز پارٹی ہر فورم پر قبائلی عوام کی آواز بلند کرے گی۔
سابق رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے سیراج الحق، مولانا فضل الرحمان، امین گنڈا پور، امیر مقام، وزیر سیفران اور دیگر تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ باجوڑ کے امن کے لیے آواز بلند کریں۔
سابق رکن قومی اسمبلی گل داد خان نے کہا کہ ریاست کو فوری طور پر باجوڑ کے حالات پر توجہ دینی ہوگی، ورنہ عوامی ردعمل شدید ہوگا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب خان نے خطاب میں کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کو جان و مال کا تحفظ دے۔ انہوں نے کہا کہ امن صرف پالیسیوں سے نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے آئے گا، اور وہ ہر فورم پر باجوڑ کے عوام کا مقدمہ لڑیں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے ایم پی اے نثار باز خان نے کہا کہ شہید مولانا خان زیب کی قربانی نے ثابت کر دیا کہ ہم امن کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہر سطح پر امن، تعلیم اور حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
صاحبزادہ ہارون الرشید نے کہا کہ امن صرف ریاست کی نہیں بلکہ ہر فرد، ہر جماعت اور ہر طبقے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ علم، برداشت اور بھائی چارے سے امن کی جدوجہد میں شامل ہوں۔
امن پاسون کے تمام اخراجات سابق ایم پی اے سیراج الدین خان کے صاحبزادے اور سابق صوبائی امیدوار عابد خان نے اپنی ذاتی حیثیت میں برداشت کیے۔ انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں پائیدار امن کے لیے ہم سب کو کردار ادا کرنا ہوگا، اور ایسے اجتماعات کو سپورٹ کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
آخر میں شرکاء نے شہید مولانا خان زیب سمیت تمام شہداء کے لیے اجتماعی دعا کی اور یہ عہد کیا کہ باجوڑ کے امن کے لیے متحد رہیں گے۔ شرکاء نے کہا:
ہمیں امن چاہیے، ہمیں انصاف چاہیے، ہمیں اپنے حقوق چاہیے۔