پشتون دھرتی کا ایک موثر اور توانا آواز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا گیا. مولانا خان زیب کی شہادت صرف ان کے خاندان کا غم نہیں بلکہ یہ خیبر پختونخوا کے ہر گھر اور ہر سیاسی جماعت کا مشترکہ غم ہے. عنایت اللہ خان.
امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان نے ٹارگٹ کلنگ میں شہید ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما مولانا خانزیب شہید کے رہایشگاہ پر اپنے تعذیتی خطاب میں کہا کہ پچھلے کئ دہائیوں سے پشتون بلٹ میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے. اس دھرتی کے باسیوں کی جان تک محفوظ نہیں. موثر آوازوں کو دبایا جارہا ہے. صرف باجوڑ میں چند ماہ کے دوران کئ سیاسی و سماجی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا.صوبہ بدترین بدآمنی کے لیپٹ میں ہے جبکہ ارباب اختیار، اقتدار کے مزوں میں مگن ہیں.
شہریوں کی جان و مال کی تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے ریاست اپنی زمہ داری ادا کرنے میں مسلسل ناکام نظر آرہا ہے. صرف باجوڑ میں بدآمنی کے ان گنت دلخراش واقعات رونما ہوچکے ہیں. جمعیت علمائے اسلام کے کنونشن پر دھماکے کے نتیجے میں درجنوں لوگ جان سے گیے. عین الیکشن کمپئن میں ریحان زیب کو شہید کر دیا گیا، سینیٹر ہدایت اللہ خان اور محمد حمید صوفی شہید کردیے گیے اور آج ایک اور توانا آواز خاموش کردیا گیا. آخر کب تک ہم لاشیں اٹھاتے رہیں گے. پہلے بھی کہہ چکے ہیں آج دوبارہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک ہونا ہوگا. ہمیں یک اواز ہوکر مضبوط آواز بلند کرنا ہوگا. یہاں کے مقامی قیادت نے 13 جولائی کو امن پاسون کی کال دی ہے ہم مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں. ہماری ضلعی قیادت، ارکان وکارکنان قوم کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے. بطور صوبائ ذمہ دار ہر دستیاب فورم پر اس دھرتی کے آمن کے لیے بھرپور آواز اٹھاوں گا. یہ کسی ایک سیاسی جماعت، فرد یا برادری کا مسلہ ہے یہ پورے پشتون قوم کا مسلہ ہے. جب یہاں آمن ہوگا تب سیاست ہوگی، ترقی ہوگی، کاروبار ہوگا. باجوڑ کے غیور باسیوں سے استدعا ہے کہ آمن کی خاطر 13 جولائی کو بلاخوف و خطر گھروں سے نکلیں اور آمن پاسون کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کریں.
جماعت اسلامی کے صوبائ امیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں آمن و آمان کی مخدوش صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے29 جولائی کو پشاور میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قایدین، قبائلی عمائدین اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شخصیات کو مدعو کریں گے تاکہ مستقبل کے لئے متفقہ لائحہ عمل طے کیا جاسکے.
قانون نافذ کرنے والے اداروں پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ عوام میں اداروں اور حتی کہ ریاست کے خلاف بھی غیض و غضب انتہا تک پہنچ چکی ہے. اللہ نہ کرے کہ عوام میں پایاجانے والا یہ اشتعال مزید بڑھے. اس لیے یہ ریاست اور ریاستی اداروں کے مفاد میں ہے کہ عوام کی جان و مال کی تحفظ یقینی بنائیں.
اب وقت اچکا ہے کہ تمام سیاسی قائدین ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوکر اس بدآمنی اور قتل و غارت گری کے خلاف یک زبان ہو ورنہ پولیٹیکل سپیکٹرم کے اس طرح کے توانا آوازیں ایک ایک کرکے خاموش کیے جائیں گے.