لاہور (رپورٹ: حسبان میڈیا)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے ڈیجیٹل ونگ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اس وقت ملک سے باہر ہے اور اس پر قیادت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے احاطے میں میڈیا کے نمائندوں سے باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پارٹی کے اندرونی و بیرونی بیانیے، آئینی ترامیم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں تنہائی کے حوالے سے تفصیلی موقف پیش کیا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ علیمہ خان کا غریب ڈرائیور کسی بھی قسم کا جرم کیے بغیر آج بھی جیل کاٹ رہا ہے، اور وہ ایک بار پھر عدالتوں سے انصاف کی امید لے کر یہاں پہنچے ہیں۔ انہوں نے ملک کے عدالتی اور قانونی نظام پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "آج ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ عمارتیں اور یہ قانون محض ایک جھانسہ دکھائی دیتے ہیں"۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ تمام ادارے اور عمارتیں مل کر بھی ایک قیدی (عمران خان) تک ان کی قانونی قیادت کی رسائی نہیں کروا سکتے، تو پھر ان کا کیا فائدہ ہے۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس ترمیم کے نفاذ کے تحت ملک سے تمام بنیادی آزادیاں ختم ہو چکی ہیں، اور آج آئین میں درج بنیادی حقوق کہیں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلاوجہ اور کالے قوانین کے تحت بے گناہ شہریوں کو بھی مجرم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم وہ عدالتوں کا رخ اس لیے کرتے ہیں تاکہ قوم کو مسلسل جھنجھوڑتے رہیں۔ آئندہ کی قانون سازی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کیا کہ جب تک عمران خان سے براہِ راست ملاقات اور مشاورت نہیں ہو جاتی، پی ٹی آئی 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کسی بھی قسم کا حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔