نیویارک (این این آئی: حسبان میڈیا)
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج "بائنانس" سے 6 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں کی چوری کی بڑی واردات میں شمالی کوریا براہِ راست ملوث ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی اس ریکارڈ سائبر چوری نے کرپٹو مارکیٹ اور ڈیجیٹل اثاثوں کی سیکیورٹی پر مامور عالمی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ایف بی آئی کی جانب سے جاری کردہ ایک باقاعدہ بیان کے مطابق، تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ شمالی کوریا سے منسلک سائبر ہیکرز اس میگا ہیکنگ نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہیکرز نے بائنانس سے چوری کیے گئے ڈیجیٹل اثاثوں کو ٹریس ہونے سے بچانے کے لیے انہیں تیزی سے دوسری مشہور کرپٹو کرنسی 'ایتھیریم' (Ethereum) میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔
امریکی تحقیقاتی ادارے نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا سے وابستہ یہ ہیکرز چوری شدہ ڈیجیٹل اثاثوں کی مزید بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کر سکتے ہیں، جس کا رخ بین الاقوامی پابندیوں کو بائی پاس کرنے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی فنڈنگ کی طرف موڑنے کا شدید خدشہ ہے۔ ایف بی آئی اور دیگر بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی ایجنسیاں اس وقت ان ہیکرز کے ڈیجیٹل والیٹس کو بلاک کرنے اور فنڈز کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔