پشاور (نیوز رپورٹر: حسبان میڈیا)
حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کرنے سے قبل ہی صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت دیگر اضلاع میں نافذ العمل پالیسی کے تحت سرکاری و غیر سرکاری اسکولوں، پرائیویٹ اسکولوں، پرائیویٹ کالجوں اور میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم افغان بچوں کو فوری طور پر فارغ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو باقاعدہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جس کے بعد غیر قانونی مہاجرین کی اپنے وطن واپسی کے سلسلے میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
دستاویزات اور موصولہ اطلاعات کے مطابق، اتوار کے روز پشاور سے 400 سے زائد افغان مہاجرین پر مشتمل خاندان افغانستان منتقل ہو گئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے افغان مہاجرین کو جاری کیے جانے والے بی آر ٹی (BRT) کارڈز کو بلاک کرنے کا عمل بھی باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ ایسے شہری جنہوں نے تاحال اپنے کارڈز کی کنفرمیشن نہیں کرائی، ان کے بی آر ٹی کارڈز 31 دسمبر کے بعد مستقل طور پر بلاک کر دیے جائیں گے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں میں موجود مہاجرین کے بچوں کو نکالنے کے حوالے سے جاری کردہ ہدایات میں پرائیویٹ اسکولوں کی انتظامیہ کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے بچوں کو فوری طور پر اپنے ہاں سے فارغ کریں۔
مزید برآں، نئی حکومتی پالیسی کے تحت نجی اسپتالوں (پرائیویٹ ہاسپٹلز) میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے افغان ڈاکٹروں کو بھی فوری طور پر ملازمتوں سے فارغ کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز شہر کے مختلف تجارتی مراکز اور بازار بند ہونے کے باعث افغان شہریوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ عارضی طور پر معطل رہا، تاہم آج سے پشاور کے تمام علاقوں میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ باقاعدہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔