پشاور (رپورٹ: حسبان میڈیا)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی تنظیمی معاملات اور بیانات پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کے تمام دعوؤں اور حالیہ انٹرویو کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر جھوٹ اور بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا، تاہم انہیں جان بوجھ کر ملاقات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ" میں بیرسٹر سیف نے یہ متنازع دعویٰ کیا تھا کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے پیشکش کے باوجود پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کی۔ اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بیرسٹر سیف کا یہ مؤقف حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے سمیت مذاکراتی عمل کے ہر طریقے کو آزمایا گیا، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ایک بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے مزید وضاحت کی کہ مقتدر حلقوں یا حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کے دوران بانی پی ٹی آئی تک بلا روک ٹوک رسائی فراہم کرنا تحریک انصاف کی اولین اور بنیادی شرائط میں شامل تھا۔ واضح رہے کہ بیرسٹر سیف نے اپنے انٹرویو میں مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس کے اسٹیبلشمنٹ کے اہم افراد کے ساتھ براہِ راست رابطوں کا دعویٰ بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ رابطے عمران خان کی رہائی کے لیے نہیں ہیں۔ بیرسٹر گوہر کے اس حالیہ اور جارحانہ بیان نے پارٹی کے اندر بیانیے کے تضاد کو واضح کر دیا ہے جس سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔