سرکاری رہائش گاہوں کا کرایہ ہضم کرنے والے 7 ہزار 973 وفاقی ملازمین کے خلاف اسٹیٹ آفس کا گرینڈ ایکشن، مکانات کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ، حسبان میڈیا):
وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں سرکاری رہائش گاہوں میں مقیم وفاقی ملازمین کا ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل منظرِ عام پر آیا ہے، جہاں پونے 8 ہزار سے زائد ملازمین نادہندہ نکلے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مختلف شہروں میں قائم سرکاری کوارٹرز اور مکانات کا طویل عرصے سے کرایہ ادا نہ کرنے والے 7 ہزار 973 وفاقی ملازمین کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اس سنگین نادہندگی پر ایکشن لیتے ہوئے اسٹیٹ آفس نے کرایہ ادا نہ کرنے والے ملازمین کے مکانوں کی الاٹمنٹ فوری طور پر منسوخ کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، نادہندہ وفاقی ملازمین کی فہرست میں صوبائی دارالحکومت کراچی 74.26 فیصد کی ریکارڈ شرح کے ساتھ سب سے آگے ہے، جہاں نادہندہ ملازمین کی تعداد 5,317 ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد 2,169 نادہندگان کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ لاہور میں 404، پشاور میں 57 اور کوئٹہ میں 26 وفاقی ملازمین سرکاری گھروں کا کرایہ ادا نہ کرنے والوں میں شامل ہیں۔
اسٹیٹ آفس نے کرائے کی عدم ادائیگی کو مروجہ قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام متعلقہ نادہندگان کو حتمی وارننگ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ نوٹس کی مقررہ مدت کے اندر واجب الادا رقم جمع نہ کرانے کی صورت میں نہ صرف الاٹمنٹ منسوخ کر دی جائے گی بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے مکانات زبردستی خالی کروا لیے جائیں گے۔ اسٹیٹ آفس کے اس سخت فیصلے کے بعد نادہندہ وفاقی ملازمین میں کھلبلی مچ گئی ہے۔