ایرانی حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں 24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں متاثر، امریکا کا خطے میں فوجی موجودگی محدود کرنے پر غور
واشنگٹن/نیویارک (خصوصی رپورٹ، حسبان میڈیا):
معروف امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں قائم 24 امریکی فوجی اڈے اور مجموعی طور پر 274 عمارتیں شدید متاثر یا تباہ ہوئی ہیں۔ اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر اور امریکی فوجی حکام کے انٹرویوز کی مدد سے ان نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حملوں نے امریکی دفاعی تنصیبات کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے ابتدائی دو ہفتوں کے اندر ہی 119 امریکی فوجی عمارتیں متاثر ہوئیں۔ اخبار کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جنگ کے پہلے 6 ماہ کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی موجودگی والی 24 اہم تنصیبات کی 274 عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ان نقصانات کا ابتدائی تخمینہ کم از کم 5 ارب ڈالر لگایا تھا، تاہم تازہ ترین مادی و تزویراتی نقصانات کی مجموعی مالیت 15 ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔ ایران نے عام تنصیبات کے ساتھ ساتھ امریکی فوجیوں کی رہائشی عمارتوں (بیرکس) کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ان تباہ شدہ فوجی اڈوں کی دوبارہ تعمیرِ نو پر 4 ارب ڈالرز سے زائد کے اخراجات آئیں گے۔ اس سنگین صورتحال، مسلسل مالی و جانی خطرات اور دفاعی انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد واشنگٹن میں پالیسی سازوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پینٹاگون اور امریکی انتظامیہ اب مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں اپنی فوجی موجودگی کو مستقل طور پر محدود کرنے اور فورسز کے متبادل پھیلاؤ کی مختلف حکمتِ عملیوں پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔