اسلام آباد: وفاقی حکومت نے بیوروکریسی اور سرکاری محکموں میں شفافیت اور ملکی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریت اور سفری دستاویزات کا ریکارڈ اکٹھا کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرائع کے مطابق، تمام وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے ماتحت کام کرنے والے اداروں کے افسران و ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ 90 روز (تین ماہ) کے اندر اپنی اور اپنے خاندان کی شہریت سے متعلق باضابطہ ڈیکلیریشن جمع کرائیں۔
حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں ایک جامع پرفارما (پرچہ معلومات) بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کو پُر کرنا تمام گریڈز کے سرکاری ملازمین کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس نئے حکومتی اقدام کی سب سے اہم کڑی یہ ہے کہ ملازمین کو نہ صرف اپنی بلکہ اپنے زیرِ کفالت افراد (Dependent Family Members) کی غیر ملکی شہریت اور ان کی سفری دستاویزات (پاسپورٹس وغیرہ) کا مکمل ریکارڈ بھی فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اگر کسی سرکاری ملازم نے کسی غیر ملکی شہری سے شادی کر رکھی ہے، تو اسے اس شادی کی مکمل تفصیلات بھی حکومت کے گوشواروں میں جمع کرانی ہوں گی۔
آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملکی تاریخ میں سول سروس ریفارمز کے حوالے سے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد اہم ترین آئینی اور انتظامی عہدوں پر فائز افراد کی وفاداریوں کو خالصتاً پاکستان کے ساتھ مشروط رکھنا ہے۔ حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ مقررہ 90 روز کی مدت کے اندر پرفارما جمع نہ کرانے والے یا حقائق چھپانے والے ملازمین کے خلاف سخت تادیبی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی