حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے احتجاج اور طبی خدمات میں خلل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے فوری مذاکرات اور مسئلے کے حل کا مطالبہ کردیا۔
میاں افتخار حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ صوبے کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے احتجاج اور او پی ڈی سروسز کے بائیکاٹ کے باعث مریضوں کو علاج معالجے کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کے معاوضوں میں اضافے سمیت دیگر مطالبات کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال گزشتہ ایک ہفتے سے صحت کے نظام کو متاثر کر رہی ہے، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔
اے این پی رہنما کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی معطلی یا تعطل کا براہ راست نقصان غریب اور بے سہارا مریضوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جو علاج کے لیے سرکاری مراکز صحت پر انحصار کرتے ہیں۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ مریضوں کی مشکلات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، حکومت کو چاہیے کہ ڈاکٹرز کے مطالبات سنے اور مذاکرات کے ذریعے فوری طور پر معاملہ حل کرے۔
اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ ان کی جماعت ڈاکٹرز برادری کے جائز مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور صوبائی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ طبی عملے کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی ترجیحات میں صحت کا شعبہ نمایاں ہونا چاہیے اور ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث سرکاری ہسپتالوں میں متاثر ہونے والی علاج معالجے کی سہولیات بلا تاخیر معمول پر لائی جائیں۔
میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ حکومت کی مبینہ غفلت اور غیر سنجیدگی کا بوجھ مریضوں پر نہیں ڈالا جاسکتا، اس لیے صوبائی حکومت اپنی ترجیحات پر نظرثانی کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔