حسبان میڈیا(ویب ڈیسک): ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے اور عالمی برادری سے تہران کے ساتھ اقتصادی روابط محدود کرنے کے امریکی مطالبے پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں روس نے واشنگٹن کی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا دوسرے ممالک کو اپنے تعلقات کے حوالے سے احکامات جاری نہیں کرسکتا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے امریکی مطالبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دیگر ممالک کے باہمی تعلقات کے بارے میں فیصلے کرے یا انہیں اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کرے۔
دمتری پیسکوف کے مطابق روس کے اپنے دوست اور شراکت دار ممالک موجود ہیں اور ماسکو ان کے ساتھ قائم دوستانہ اور شراکت داری کے تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھے گا بلکہ انہیں مزید مستحکم کرنے کی کوشش بھی جاری رکھے گا۔
اس سے قبل چین بھی ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے اور تہران کے ساتھ تعلقات ختم کرنے سے متعلق امریکی مطالبے کی مخالفت کرچکا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تہران پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کا تیز ترین راستہ یہ ہے کہ مختلف ممالک ایرانی حکومت کو معاشی معاونت فراہم کرنے سے گریز کریں۔
روس اور چین کے برعکس یورپی یونین نے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی امریکی مہم کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن یورپی اتحادیوں کے اس مؤقف کو اہم پیشرفت سمجھتا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا کہ ایران اپنے جوہری عزائم، ہتھیاروں کے پروگراموں اور اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی مالی معاونت کے لیے عالمی مالیاتی نظام سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے ایرانی حکومت کو واضح پیغام دیا جارہا ہے اور امریکا اس وقت تک دباؤ جاری رکھے گا جب تک ایران کی مالی معاونت کے باقی ذرائع بھی ختم نہیں ہوجاتے۔
ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران پر بڑھتے ہوئے امریکی معاشی دباؤ کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایک تقریب سے خطاب میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ایران پر عائد حالیہ سخت اقتصادی پابندیاں تہران کو شدید دباؤ میں لے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں ایرانی حکومت کسی انتہائی اقدام کی طرف بھی جاسکتی ہے۔
ان کے مطابق ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ ایرانی حکومت کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور اسے اندرون ملک عوامی احتجاج کے خدشے نے بھی پریشان کر رکھا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ معاشی دباؤ، داخلی بے چینی اور حکومتی اضطراب کا یہ مجموعہ ایران کو کسی سخت یا خطرناک ردعمل پر اکسا سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔