پاکستان اور برطانیہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور تمام اہم شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار کے دورہ لندن کے دوران برطانوی وزیرِ خارجہ اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی وفود کی سطح پر ملاقاتوں میں سامنے آئی۔
ملاقات کے دوران برطانوی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کلیدی اور تعمیری کردار کو سراہا۔ مذاکرات میں دوطرفہ امور کے علاوہ سندھ طاس معاہدے کی موجودہ صورتحال اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی بالخصوص جنوبی ایشیا کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے برطانوی قیادت کو بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مسلسل خلاف ورزیوں پر پاکستان کے شدید تحفظات سے آگاہ کیا اور اسے خطے کے امن کے لیے قابلِ تشویش قرار دیا۔ انہوں نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو لاحق دہشت گردی کے خطرات اور سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں، دورہ لندن کے دوران نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے برطانوی قومی سلامتی کے مشیر جوناتھن پاول سے بھی ایک اہم ملاقات کی۔ اس موقع پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کی کمی اور دیرپا امن کے لیے ایک ایسے قابلِ قبول حل کا حامی ہے جس سے تمام فریقین کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے اپنی مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔