واشنگٹن/ اوٹاوا (بین الاقوامی امور کے نمائندے، حسبان میڈیا): شمالی امریکا کے دو بڑے تجارتی شراکت داروں، امریکا اور کینیڈا کے درمیان معاشی سرد جنگ باقاعدہ تجارتی جنگ میں تبدیل ہو گئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، کینیڈا نے واشنگٹن کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف سخت ترین ردعمل دیتے ہوئے سینکڑوں امریکی مصنوعات پر 50 فیصد تک جوابی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ ان نئے ٹیکسوں کا نفاذ 8 ستمبر سے ہوگا، جس کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تجارتی تعلقات میں ریکارڈ تلخی آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
کینیڈین وزارتِ خزانہ کے مطابق، ان جوابی محصولات کی زد میں اسٹیل، ایلومینیم، ڈیری مصنوعات، الیکٹرانکس، زرعی آلات، فرنیچر، ملبوسات اور پلپ اینڈ پیپر سمیت متعدد اہم شعبے آئیں گے۔ یہ شدید تجارتی تنازع گزشتہ ہفتے کے اختتام پر اس وقت شروع ہوا جب دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے سرکاری مذاکرات بری طرح ناکام ہو گئے۔ مذاکرات کی ناکامی کے فوراً بعد، امریکا نے 22 اگست سے کینیڈین مصنوعات پر 27.6 ارب ڈالر مالیت کے 50 فیصد ٹیرف نافذ کر دیے تھے، جس کے جواب میں اب کینیڈا نے بھی مساوی اقدامات اٹھائے ہیں۔
اوٹاوا میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈین وزیر خزانہ نے صورتحال کو ملکی معیشت کے لیے ایک بے مثال چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے واضع کیا کہ کینیڈا اس معاشی جارحیت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اس صورتحال کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔ کینیڈین حکومت نے امریکی ٹیرف سے متاثر ہونے والی اپنی مقامی صنعتوں اور کاروباری طبقات کو سہارا دینے کے لیے 7.5 ارب ڈالر کے خطیر امدادی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ ملکی معیشت کو بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ عالمی معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تجارتی جنگ سے دونوں ممالک میں مہنگائی کا نیا طوفان آ سکتا ہے۔