نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت کی سرحد پر مٹی اور چٹانیں دریا میں گرنے کے باعث آنے والے قیامت خیز سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ حادثے کے نتیجے میں کم از کم 157 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سینکڑوں مقامی و غیر ملکی سیاح لاپتا ہیں۔ نیپال اور چین دونوں ممالک کے حکام نے جانی و مالی نقصان میں غیر معمولی اضافے کا شدید خدشہ ظاہر کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، بدھ کے روز پیش آنے والے اس ہولناک واقعے کی سکیورٹی اور موبائل فوٹیجز منظرِ عام پر آئی ہیں، جن میں درجنوں افراد کو سرحد پر بپھرے ہوئے سیلابی ریلے میں بہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سیلابی ریلے کی شدت اس قدر تیز تھی کہ اس نے چند ہی سیکنڈز میں مضبوط عمارتوں، گاڑیوں اور راستے میں آنے والے متعدد انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نیپال میں کئی رہائشی مکانات، اہم شاہراہیں اور بجلی کے منصوبے مکمل طور پر سیلاب برد ہو چکے ہیں، جس کے باعث مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔
دوسری جانب، تبت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ سرحدی گزرگاہ پر مٹی کا بڑا تودہ گرنے کے بعد 'گیرونگ' (Gyirong) کاؤنٹی میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ چینی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، لینڈ سلائیڈنگ کا بنیادی رخ نیپالی سرحد کی جانب تھا، جس نے گیرونگ پورٹ کو شدید متاثر کیا اور سرحدی علاقے میں سڑکوں، مواصلات اور بجلی کی تنصیبات کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔
نیپال کی ٹورازم اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، متاثرہ پہاڑی علاقے میں کم از کم 384 سیاح لاپتا ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ لاپتا ہونے والوں میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 12 برطانوی، 8 جنوبی کوریائی اور 3 امریکی شہری شامل ہیں۔ نیپالی پولیس نے اب تک ملبے اور دریا سے 157 لاشیں نکالنے کی تصدیق کی ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے 'سی سی ٹی وی' کے مطابق، بیجنگ حکومت نے گیرونگ لینڈ کراسنگ پر ہنگامی بنیادوں پر 574 امدادی کارکنوں کو تعینات کر دیا ہے۔ تاہم، مٹی اور ملبے کی 5 فٹ موٹی تہہ جمع ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور رسائی میں کئی گھنٹے لگ رہے ہیں۔ نیپال کی اس نازک صورتحال کے پیش نظر بھارت کی شمالی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں بھی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کیونکہ پہاڑوں سے نکلنے والے متعدد دریا ان بھارتی میدانی علاقوں کی جانب رخ کرتے ہیں، جس سے وہاں بھی سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔