حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا اور ایران میں نئی جنگ بندی کی مبینہ ڈیل، آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی اتفاق Home / بین الاقوامی /

امریکا اور ایران میں نئی جنگ بندی کی مبینہ ڈیل، آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی اتفاق

ایڈیٹر - 26/08/2026
امریکا اور ایران میں نئی جنگ بندی کی مبینہ ڈیل، آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی اتفاق

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان نئی جنگ بندی کے لیے اتفاق رائے پیدا ہوگیا ہے، جس میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ آمدورفت بحال کرنے کی شق بھی شامل ہونے کا امکان ہے۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور پاکستان میں موجود ذرائع کی معلومات کی بنیاد پر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے، جس کے بعد معاہدے کی تفصیلات طے کرنے کے لیے مذاکرات اور تکنیکی سطح کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق جون کے وسط میں امریکا اور ایران نے اسلام آباد میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ تاہم ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد دونوں فریقوں کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہوگئی۔

روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مختلف ثالثوں کی کوششوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان نئی جنگ بندی کے لیے مفاہمت پیدا کرنے کی کوشش جاری تھی۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا تھا کہ ایران کے معاشی محاصرے میں تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ واشنگٹن جنگ سے عالمی توجہ ہٹانے اور اپنے داخلی مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی حکمت عملی کے نتیجے میں واشنگٹن کو پہلے سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

تاہم روسی میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ ایران اور امریکا دونوں کی جانب سے نئی جنگ بندی پر اتفاق کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ اعلان، تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

اگر جنگ بندی کی خبر درست ثابت ہوتی ہے تو اسے خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور امریکا ایران تنازع کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی اہم پیش رفت قرار دیا جاسکتا ہے۔