حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
آبنائے ہرمز پر ایران کا انتہائی سخت انتباہ، تیل کی عالمی منڈی میں ہلچل کا خدشہ Home / بین الاقوامی /

آبنائے ہرمز پر ایران کا انتہائی سخت انتباہ، تیل کی عالمی منڈی میں ہلچل کا خدشہ

ایڈیٹر - 25/08/2026
آبنائے ہرمز پر ایران کا انتہائی سخت انتباہ، تیل کی عالمی منڈی میں ہلچل کا خدشہ

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکا کی جانب سے اقتصادی دباؤ اور نئی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت ترین انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی جنگ جاری رہی تو اس اہم بحری راستے سے تیل کی ترسیل روک دی جائے گی۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے واضح کیا ہے کہ اگر تہران کے خلاف اقتصادی دباؤ برقرار رہا تو آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔

انہوں نے امریکی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران پر پہلے بھی متعدد معاشی پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، تاہم یہ اقدامات اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے اور مستقبل میں بھی تہران کو دباؤ کے ذریعے جھکانا ممکن نہیں ہوگا۔

امریکی دعووں کو ایران نے مسترد کردیا

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمد سے متعلق امریکی بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں نفسیاتی دباؤ کی حکمت عملی قرار دیا ہے۔

ایرانی حکام کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور عالمی منڈیوں کو تیل کی ترسیل کے حوالے سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

ایران اور عمان میں اہم بات چیت متوقع

ذرائع کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سمیت دیگر اہم بحری گزرگاہوں کی صورتحال پر بھی آج بات چیت متوقع ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اس رابطے کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔

ایران نے بلغاریہ کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے امریکی طیاروں کو ایندھن فراہم کرنے کی سہولت دی تو اسے ممکنہ حملوں کے خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عالمی تیل منڈی پر بڑے اثرات کا خدشہ

آبنائے ہرمز خلیج فارس سے عالمی منڈیوں تک تیل پہنچانے والے انتہائی اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے تیل کی ترسیل روکنے کی دھمکی نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں، توانائی کی فراہمی اور معاشی سرگرمیوں پر بھی نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے۔