حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
متحدہ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ، حکومت کے خلاف آئندہ حکمت عملی سامنے آگئی Home / سیاست /

متحدہ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ، حکومت کے خلاف آئندہ حکمت عملی سامنے آگئی

ایڈیٹر - 25/08/2026
متحدہ اپوزیشن کا بڑا فیصلہ، حکومت کے خلاف آئندہ حکمت عملی سامنے آگئی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): متحدہ اپوزیشن کے پہلے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے اور سیاسی سرگرمیوں کو قانون سازی کے دائرے تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کی صدارت قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کی۔ اجلاس میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر اپوزیشن ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے ملک کو درپیش اہم مسائل پر پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ اور متفقہ آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ شرکا نے مہنگائی، امن و امان کی صورتحال، معیشت، دہشت گردی، عدلیہ، سیاسی قیدیوں اور نئے صوبوں کے قیام سمیت مختلف قومی امور پر مشترکہ مؤقف اختیار کرنے پر اتفاق کیا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ سیاسی اور معاشی حالات میں پارلیمنٹ کے فورم کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے اور اہم معاملات پر جماعتی اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے۔

نئے صوبوں کی بحث پر مولانا فضل الرحمان کا اہم مؤقف

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کو صوبوں کی تقسیم کی طرف لے جانا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات معاشرے میں پہلے سے موجود بے اعتمادی اور عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

اپوزیشن کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا خوش آئند ہے، محمود اچکزئی

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مختلف اپوزیشن جماعتوں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہونا اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن جماعتیں قومی معاملات پر باہمی مشاورت کے ذریعے آگے بڑھیں گی۔

دوسری جانب بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام جماعتیں باہمی تعاون کے ساتھ مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گی۔

متحدہ اپوزیشن کے اس اجلاس کو پارلیمانی سطح پر حکومت کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ اجلاسوں میں مختلف قومی معاملات پر مشترکہ قانون سازی اور پارلیمانی اقدامات کو مزید آگے بڑھانے کا امکان ہے۔