حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایران پر امریکا کی نئی معاشی یلغار، معاشی سہارا فراہم کرنے والے تمام ذرائع نشانے پر، تہران کا کسی بھی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان، فیصلے پر چین کے تحفظات Home / بین الاقوامی /

ایران پر امریکا کی نئی معاشی یلغار، معاشی سہارا فراہم کرنے والے تمام ذرائع نشانے پر، تہران کا کسی بھی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان، فیصلے پر چین کے تحفظات

ایڈیٹر - 25/08/2026
ایران پر امریکا کی نئی معاشی یلغار، معاشی سہارا فراہم کرنے والے تمام ذرائع نشانے پر، تہران کا کسی بھی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان، فیصلے پر چین کے تحفظات

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک):  امریکا نے ایران کے خلاف معاشی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، ہوابازی، سونے اور بحری ترسیلات سمیت اہم شعبوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے، جبکہ تہران نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کے مطابق نئی پابندیوں کا مقصد ایران کے مالی وسائل اور معاشی سرگرمیوں کو محدود کرنا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے واشنگٹن میں نئی پالیسی کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی حکومت کو معاشی سہارا فراہم کرنے والے ذرائع کو نشانہ بنایا جائے گا اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسکاٹ بیسینٹ نے دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات ایران کے ساتھ اپنا کاروباری تعاون ختم کرچکا ہے۔ انہوں نے دیگر ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک امریکی توقعات کے مطابق اقدامات نہیں کریں گے، انہیں ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام سے متعلق مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی، کیونکہ ان کے بقول معاشی دباؤ ہی تہران کو پسپائی پر مجبور کرنے کے لیے کافی ثابت ہوسکتا ہے۔

تہران کا دوٹوک جواب

امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد ایرانی قیادت کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی موقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اب اس پوزیشن میں نہیں کہ ایران کے تعلقات محدود کرسکے یا اس کے تجارتی شراکت داروں کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور کرے۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی امریکی معاشی دباؤ کو بے اثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر عائد پابندیاں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی توانائی کی برآمدات اور اہم تجارتی راستوں کے معاملے میں سخت مؤقف اختیار کرسکتا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خزانہ علی مدنی زادہ نے نئی امریکی پابندیوں کو واشنگٹن کی پالیسی کی ایک اور ناکامی قرار دیا۔ ان کے مطابق تہران نے پابندیوں سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی تیار کر رکھی ہے اور حکومت کے پاس تقریباً 2 سال تک معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ موجود ہے۔

چین بھی میدان میں آگیا

ایران کے خلاف امریکی اقدامات پر چین کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے کہا کہ محض پابندیاں اور دباؤ کسی مسئلے کے حل کا مؤثر ذریعہ نہیں ہوسکتے۔

چینی ترجمان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں تحمل اور دانش مندی کا مظاہرہ کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا بغور جائزہ لیتا رہے گا اور اپنے قانونی حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

امریکی پابندیوں اور ایرانی ردعمل کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاشی کشیدگی مزید بڑھنے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں، جبکہ چین کی جانب سے امریکی پالیسی پر تحفظات کے اظہار نے معاملے کو مزید عالمی اہمیت دے دی ہے۔