حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
شام کے لیے بڑی خبر، امریکا نے دہائیوں بعد اہم پابندی ہٹا دی؛ سرمایہ کاری کی راہ کھل گئی Home / بین الاقوامی /

شام کے لیے بڑی خبر، امریکا نے دہائیوں بعد اہم پابندی ہٹا دی؛ سرمایہ کاری کی راہ کھل گئی

ایڈیٹر - 25/08/2026
شام کے لیے بڑی خبر، امریکا نے دہائیوں بعد اہم پابندی ہٹا دی؛ سرمایہ کاری کی راہ کھل گئی

حسبان  میڈیا (ویب ڈیسک): امریکا نے شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے باضابطہ طور پر خارج کردیا، جس کے بعد جنگ زدہ ملک کے عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ جڑنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق شام کو مذکورہ فہرست سے نکالنے کا فیصلہ پیر سے نافذ العمل ہوگیا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 8 جولائی کو کانگریس کو شام کا نام فہرست سے خارج کرنے کے ارادے سے آگاہ کیے جانے اور اس کے بعد مکمل کیے گئے 45 روزہ جائزے کے نتیجے میں سامنے آئی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شام کی نئی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات اور فراہم کردہ یقین دہانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق صدر احمد الشرع کی حکومت نے شام کو بین الاقوامی دہشت گردی کی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

شام کی عالمی مالیاتی نظام میں واپسی کی امید

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے فیصلے سے قبل کہا تھا کہ حکومت کو توقع ہے کہ فہرست سے اخراج کے بعد ملک کے لیے عالمی مالیاتی اور اقتصادی نظام سے دوبارہ منسلک ہونا آسان ہوجائے گا، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

شامی حکام کے مطابق طویل جنگ کے بعد ملکی معیشت کی بحالی، کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے بیرونی سرمایہ کاری انتہائی اہم ہے۔

1979 میں فہرست میں شامل ہوا، اب نام خارج

امریکا نے شام کو 1979 میں دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ واشنگٹن کی جانب سے اس وقت حافظ الاسد کی حکومت پر مسلح گروہوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

حافظ الاسد کے بعد ان کے بیٹے بشار الاسد کے دور حکومت میں بھی شام اس فہرست کا حصہ رہا۔ تاہم دسمبر 2024 میں باغیوں کے اتحاد نے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ اس اتحاد کی قیادت موجودہ شامی صدر احمد الشرع کر رہے تھے۔

تازہ امریکی فیصلے کے ساتھ نصرہ فرنٹ کو بھی خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ تاہم کیوبا، ایران اور شمالی کوریا بدستور امریکی فہرست میں شامل ہیں۔

فہرست سے اخراج کا شام کو کیا فائدہ ہوگا؟

دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کی وجہ سے متعلقہ ملک کو امریکی امداد، دفاعی سامان کی برآمد، بعض اشیا کی فراہمی اور مالی لین دین سمیت متعدد شعبوں میں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شام کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم تھی کیونکہ تقریباً 14 سالہ جنگ کے بعد ملک کو بڑے پیمانے پر تعمیر نو اور معاشی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔

امریکی حکومت جولائی 2025 میں شام پر عائد وسیع تر اقتصادی پابندیاں ختم کرچکی ہے، تاہم بشار الاسد اور ان کے بعض ساتھیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد، منشیات کے اسمگلروں، داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں اور بعض ایرانی حمایت یافتہ گروہوں پر مخصوص پابندیاں برقرار ہیں۔

بینکوں اور عالمی کمپنیوں کے لیے نئی راہ

امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ پابندیوں کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے امریکی مالیاتی ادارے شام میں بعض مالی خدمات فراہم کرسکتے ہیں اور شامی بینکوں کے ساتھ ادائیگیوں اور بینکاری روابط کی اجازت ہے۔

تاہم دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شام کی موجودگی بین الاقوامی بینکوں اور کمپنیوں کے لیے اضافی قانونی خطرات پیدا کرتی رہی۔ تازہ فیصلے کے بعد شامی حکام کو امید ہے کہ عالمی بینکاری اور سرمایہ کاری کے دروازے مزید کھلیں گے۔

شامی وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد یسر برنیہ نے رواں ماہ بینک آف امریکا کے حکام سے ممکنہ تعاون اور شام کو عالمی مالیاتی نظام میں دوبارہ شامل کرنے کے معاملے پر بات چیت کی۔ شامی حکام کے مطابق بینک کے نمائندوں نے شام کا دورہ کرنے اور مذاکرات آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

ٹرمپ کا وعدہ، شام کی تعمیر نو کا راستہ ہموار

ڈونلڈ ٹرمپ نے جولائی میں انقرہ میں احمد الشرع سے ملاقات کے بعد کانگریس کو شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔

ٹرمپ نے شامی صدر کے نام اپنے خط میں شام کی تعمیر نو کی راہ میں موجود رکاوٹیں دور کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے۔

اسی دوران شام نے روس سے تیل کی درآمد میں نمایاں کمی کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ واشنگٹن نے احمد الشرع کی حکومت کے ساتھ تعاون میں بتدریج اضافہ کیا ہے۔

احمد الشرع ماضی میں القاعدہ سے وابستہ نصرہ فرنٹ کی قیادت کرچکے ہیں، تاہم 2016 میں انہوں نے عالمی جہادی نیٹ ورک سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اس باغی اتحاد کی قیادت کی جس نے بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیا۔

امریکی حکام کے مطابق احمد الشرع کی حکومت نے داعش کے خلاف تعاون کیا ہے اور شام پر عائد پابندیوں میں نرمی کا بنیادی مقصد ملک کو استحکام حاصل کرنے، بیرونی سرمایہ کاری متوجہ کرنے اور طویل جنگ سے تباہ حال معیشت و بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا موقع فراہم کرنا ہے۔