حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ٹرمپ کی طاقتور حکمتِ عملی کو بڑا دھچکا؟ ایران اور کینیڈا نے امریکی دباؤ کے سامنے نئی مشکل کھڑی کردی Home / بین الاقوامی /

ٹرمپ کی طاقتور حکمتِ عملی کو بڑا دھچکا؟ ایران اور کینیڈا نے امریکی دباؤ کے سامنے نئی مشکل کھڑی کردی

ایڈیٹر - 25/08/2026
ٹرمپ کی طاقتور حکمتِ عملی کو بڑا دھچکا؟ ایران اور کینیڈا نے امریکی دباؤ کے سامنے نئی مشکل کھڑی کردی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طاقت اور دباؤ پر مبنی عالمی پالیسی کو بیک وقت ایران اور کینیڈا کے ساتھ بڑھتے تنازعات کے باعث غیر معمولی چیلنج کا سامنا ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل معاشی محاذ آرائی کے اثرات خود امریکی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ امریکا اپنی معاشی اور عسکری طاقت کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں اور مخالفین کو اپنے فیصلوں کے مطابق چلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ تاہم ایران اور کینیڈا کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے اس حکمت عملی کی کامیابی پر نئے سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

ایران کے ساتھ کئی ماہ سے جاری تنازع میں امریکی دباؤ کے باوجود واشنگٹن اب تک کوئی حتمی سیاسی نتیجہ حاصل نہیں کرسکا۔ اس کے برعکس امریکی انتظامیہ نے تہران کے خلاف مزید سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے اور اس کے عالمی مالیاتی روابط کو محدود کرنے کی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے واضح کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایک بڑے معاشی محاذ کی تیاری کررہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن فوری طور پر تمام ممالک اور اداروں پر ثانوی پابندیاں عائد کرنے کے بجائے انہیں اپنا طرزِ عمل تبدیل کرنے کا موقع دے رہا ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی نظام کو اچانک شدید دھچکا پہنچانا امریکا کے مفاد میں نہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوشش اس وقت ہی مؤثر ہوسکتی ہے جب دنیا کے بیشتر ممالک واشنگٹن کے اقدامات کا ساتھ دیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سابق چیف ماہرِ اقتصادیات کینتھ روگوف کے مطابق پابندیوں کی کامیابی کے لیے وسیع عالمی حمایت ضروری ہوتی ہے، بصورت دیگر مطلوبہ نتائج حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔

سابق سینئر امریکی اہلکار میکس میزلش نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات کی کامیابی کا انحصار عالمی سطح پر ان کی حمایت پر ہوگا۔

ایران کے بعد کینیڈا سے بھی ٹکراؤ، ٹرمپ کے لیے نیا محاذ کھل گیا

امریکا کو ایران کے ساتھ کشیدگی کے علاوہ کینیڈا کے ساتھ بھی تجارتی اور سیاسی اختلافات کا سامنا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ تجارت اور معاشی تعلقات کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کررہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد کینیڈا میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اونٹاریو کے میئر ڈریو ڈلکنز نے امریکی بیانات کو نظرانداز نہ کرنے کی بات کی، جبکہ اونٹاریو کے پریمیئر ڈوگ فورڈ نے بھی امریکی صدر کے سخت مؤقف پر تنقید کی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کینیڈا سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔

معاشی جنگ کا نقصان امریکا کو بھی پہنچنے کا خدشہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور کینیڈا کے ساتھ طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات امریکی معیشت، مالیاتی منڈیوں اور عام صارفین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔

خصوصاً توانائی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے امریکی عوام کو براہِ راست مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یوں ڈونلڈ ٹرمپ کی طاقت کے ذریعے عالمی معاملات کو اپنے حق میں موڑنے کی حکمت عملی اس وقت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں ایران کا معاشی محاذ، کینیڈا کی مزاحمت اور عالمی حمایت کی کمی واشنگٹن کے لیے بڑے امتحان بن چکے ہیں۔