حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اسرائیلی حملے کے بعد ترکیہ سے خفیہ رابطے، شام میں مزید کارروائی کا عندیہ، ترکیہ اور اسرائیل آمنے سامنے Home / بین الاقوامی /

اسرائیلی حملے کے بعد ترکیہ سے خفیہ رابطے، شام میں مزید کارروائی کا عندیہ، ترکیہ اور اسرائیل آمنے سامنے

ایڈیٹر - 24/08/2026
اسرائیلی حملے کے بعد ترکیہ سے خفیہ رابطے، شام میں مزید کارروائی کا عندیہ،  ترکیہ اور اسرائیل آمنے سامنے

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): شمالی شام میں اسرائیلی فضائی کارروائی کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی ہے، تاہم دونوں ممالک نے براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے پسِ پردہ رابطوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شمالی شام کے علاقے ادلب کے قریب ابو الظہور فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد خطے کی صورتِ حال مزید حساس ہوگئی ہے۔ اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تل ابیب ترکیہ کو باقاعدہ دشمن کے طور پر دیکھنے سے گریزاں ہے، اسی لیے دونوں جانب سے پیغامات کے تبادلے اور ممکنہ ٹکراؤ روکنے کے لیے خفیہ ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ان رابطوں کا بنیادی مقصد شام میں دونوں ممالک کی فوجی سرگرمیوں کے دوران کسی غیر ارادی تصادم کو روکنا ہے۔ تاہم اسرائیل نے شام میں آئندہ کارروائیوں کا امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

اسرائیلی سکیورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی پیغامات اور رابطے مؤثر ثابت نہ ہوئے تو اسرائیل اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید کارروائی کرسکتا ہے۔

دوسری جانب شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے شمالی شام میں اسرائیلی فضائی حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے ابو الظہور اڈے کو نشانہ بنانے سے قبل امریکا کو پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔

ٹام بارک کے مطابق اسرائیلی کارروائی ترکیہ کو اشتعال دلانے کے مترادف ہے اور اس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے حملے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دمشق ترک فوجیوں کو ابو الظہور اڈے پر تعینات کرنے کی اجازت دے کر ایک طے شدہ سمجھوتے کی خلاف ورزی کے قریب پہنچ گیا تھا۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ترکیہ کو شام میں ایک خطرناک مہم کی جانب لے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے کسی بھی فریق کو خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔

رپورٹس کے مطابق ابو الظہور اڈہ ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 80 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے اور اپنے محل وقوع کے باعث انتہائی اہم عسکری حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اڈہ ادلب، حماہ اور حلب کے درمیان واقع ہونے کے ساتھ شامی صحرائی علاقے کے قریب بھی ہے۔

ابو الظہور ماضی میں سابق شامی حکومت کے زیر انتظام ایک اہم فوجی تنصیب رہا ہے اور شمالی شام کے نمایاں فوجی اڈوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

موجودہ صورتِ حال میں ایک طرف ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے رابطے جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب شام میں اسرائیلی کارروائیوں کے امکانات نے خطے میں نئی کشیدگی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔