حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
عدالت کا زبردستی کی شادی روکنے کا حکم:کمسن بچی کی 16 سال کی عمر تک شادی پر پابندی عاید۔چائلڈ پروٹیکشن کورٹ Home / پاکستان /

عدالت کا زبردستی کی شادی روکنے کا حکم:کمسن بچی کی 16 سال کی عمر تک شادی پر پابندی عاید۔چائلڈ پروٹیکشن کورٹ

ایڈیٹر - 23/08/2026
عدالت کا زبردستی کی شادی روکنے کا حکم:کمسن بچی کی 16 سال کی عمر تک شادی پر پابندی عاید۔چائلڈ پروٹیکشن کورٹ

پشاور کی چائلڈ پروٹیکشن کورٹ نے پھندو کے علاقے میں ایک 13 سالہ کمسن بچی کی مبینہ زبردستی کی شادی روکتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جب تک مذکورہ بچی 16 سال کی نہیں ہو جاتی، تب تک اس کی رخصتی نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں بچی کے والدین کو 20 لاکھ روپے کی ضمانت چائلڈ پروٹیکشن کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر 3 ماہ بعد بچی کی تحفظ اور نگہداشت سے متعلق ہر سہ ماہی فالو اپ رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔ عدالت نے اس مقصد کے لیے علیحدہ فالو اپ فائل کھولنے اور محرر کو اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ پشاور نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 13 سال 6 ماہ عمر کی بچی کو بازیافت کرایا تھا۔ بچی کے والد نے بھی عدالت کے روبرو آمادگی ظاہر کی کہ 16 سال کی عمر تک بچی کی شادی یا رخصتی نہیں کی جائے گی۔

سماعت کے دوران سماجی کارکن محمد حارث خان اور ماہرِ نفسیات جنت محمود کی موجودگی میں بچی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ بچی کے والد، دادا اور دادی نے زبردستی کی شادی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ صرف منگنی کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ کارروائی کے دوران بچی کو عارضی طور پر زمونگ کور کے پروٹیکٹو کیئر یونٹ میں رکھا گیا تھا، تاہم عدالت نے بچی کے تحفظ کی خاطر متعلقہ حکام کو فیصلے پر مکمل عملدرآمد اور باقاعدگی سے فالو اپ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔