عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع اور بلوچستان کے طلباء و طالبات کو ان کی مختص میڈیکل نشستوں سے محروم رکھنا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفاقی حکومت کی بدقسمتی ہے کہ وہ اپنے ماتحت اداروں سے بھی اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کروانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان اور ضم شدہ اضلاع کے طلباء کے لیے گزشتہ سال 333 میڈیکل نشستوں کا اعلان کیا تھا، مگر طلباء آج بھی ان سے محروم ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان علاقوں کے طلباء و طالبات اپنے جائز حق کے لیے گزشتہ تین ہفتوں سے پی ایم ڈی سی (PMDC) اسلام آباد کے سامنے سراپا احتجاج ہیں، لیکن حکمران اور متعلقہ ادارے محض تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سربراہ اے این پی نے مزید کہا کہ میڈیکل کالجز میں پہلا تعلیمی سال اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ یہ طلباء و طالبات تا حال اپنے داخلوں کے منتظر ہیں۔ سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کی جانب سے یقین دہانی کرانے کے باوجود اس مسئلے کا حل نہ ہونا متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونخوا کے ضم اضلاع اور بلوچستان پہلے ہی تعلیمی مواقع کے شدید فقدان کا شکار ہیں، ایسے میں نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی میں ڈالنا ان علاقوں میں موجود احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرے گا۔