حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): رات گئے ہونے والی شدید بارش نے جڑواں شہروں میں نظامِ زندگی متاثر کردیا، متعدد نشیبی علاقے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک بلند ہونے کے بعد انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال نافذ کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کردیا۔
شدید بارش کے باعث چھٹہ بختاور سمیت کئی علاقوں میں سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں پانی داخل ہوگیا، جس سے شہریوں کو آمدورفت اور روزمرہ امور میں مشکلات کا سامنا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشوں کے دوران اسلام آباد کے علاقے سید پور میں سب سے زیادہ 80 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
بارش کے بعد نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 19 فٹ سے تجاوز کرگئی، جس کے بعد نالے سے ملحقہ آبادیوں کو محتاط رہنے کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
انتظامیہ اور امدادی اداروں کی ٹیمیں صورتحال کی مسلسل نگرانی کررہی ہیں جبکہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات بھی کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب دریائے سندھ میں کالا باغ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہاں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 97 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔
ندی نالوں اور دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کے خدشے کے پیش نظر متعلقہ انتظامیہ اور امدادی ٹیموں کو چوکس رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور آج بھی اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا، شمال مشرقی بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں تیز اور موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں اور برساتی نالوں کے قریب جانے سے احتیاط برتیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔