حسبا ن میڈیا (ویب ڈیسک): انگلینڈ کے خلاف شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے قائم مقام کپتان سلمان علی آغا نے ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ قومی ٹیم کھیل کے تقریباً ہر شعبے میں حریف کے مقابلے میں پیچھے رہی۔
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سلمان علی آغا نے کہا کہ انگلینڈ نے پاکستان کو تمام شعبوں میں واضح طور پر آؤٹ کلاس کیا، جبکہ قومی ٹیم مطلوبہ تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
قائم مقام کپتان کے مطابق ٹیم میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، تاہم کھلاڑی میدان میں طے شدہ حکمت عملی پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں کرسکے، جس کا نتیجہ شکست کی صورت میں سامنے آیا۔
انگلینڈ کے مشکل حالات پر بات کرتے ہوئے سلمان علی آغا نے کہا کہ غیر ملکی میدانوں میں پاکستان کو ہمیشہ سخت امتحان کا سامنا رہتا ہے، جبکہ موجودہ دورے کے آغاز سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ٹیم کی آمد حالات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہونے کے لیے کافی وقت فراہم نہیں کرسکی۔
انہوں نے کہا کہ قومی ٹیم اس وقت ایک مشکل تشکیل نو کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور مستقبل کی مضبوط ٹیم تیار کرنے کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دیے جا رہے ہیں۔
سلمان علی آغا نے قومی ٹیم کی بیٹنگ پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ خود، محمد رضوان اور سعود شکیل توقعات کے مطابق رنز بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تینوں اہم بلے بازوں کی خراب فارم ٹیم کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔
قائم مقام کپتان نے بتایا کہ قومی ٹیم کا بولنگ اٹیک بھی نوجوان اور نسبتاً کم تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، تاہم یہ تجربہ مستقبل کی ٹیم کی تیاری کے لیے اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ بابر اعظم اگلے میچ سے قبل مکمل فٹنس حاصل کرکے ٹیم میں واپس آ جائیں گے، جس سے بیٹنگ لائن کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
سلمان علی آغا نے واضح کیا کہ پاکستان کو بیرون ملک سیریز میں اپنی کارکردگی کا معیار فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نتائج اور مجموعی کارکردگی کسی صورت اطمینان بخش نہیں۔