پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی بانی عمران خان کی صحت پر کبھی سیاست نہیں کرے گی، تاہم حکومت کے ساتھ آئندہ بات چیت کا انحصار عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے کسی بھی سیاسی رہنما کو مائنس نہیں کیا جا سکتا، اور پی ٹی آئی بھی کسی کو سیاسی طور پر مائنس کرنے کی قائل نہیں ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ سب سے اہم ہے اور ان کی طبی رپورٹس کو کسی ذاتی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی صحت کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جائے اور لازمی طبی سہولیات فراہم کی جائیں کیونکہ یہ ان کا قانونی حق ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے حکومت کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے شروعات کرنی چاہیے۔ حکومت مختصر وقتی اقدامات کرنے کے بجائے سنجیدہ ڈائیلاگ کی طرف بڑھے اور سیاسی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ انہوں نے ایسی تمام بیان بازی سے گریز کا مشورہ دیا جس سے سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو۔
سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی نے واضح کیا کہ فوج، پولیس اور رینجرز کی حفاظت ہر پاکستانی کی اولین ترجیح ہے۔ پی ٹی آئی اپنے سیکیورٹی اداروں کو کسی خطرے سے دوچار نہیں دیکھنا چاہتی اور جہاں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہو، وہ قابلِ مذمت ہے۔