حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا ایران 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کی ڈیڈ لائن ختم، بات چیت شروع نہ ہو سکی Home / بین الاقوامی /

امریکا ایران 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کی ڈیڈ لائن ختم، بات چیت شروع نہ ہو سکی

ایڈیٹر - 18/08/2026
امریکا ایران 60 روزہ مفاہمتی یادداشت کی ڈیڈ لائن ختم، بات چیت شروع نہ ہو سکی

اسلام آباد / تہران  : امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات کے لیے مقررہ ۶۰ روز کی ڈیڈ لائن کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی ہے، جس کے بعد خطے میں سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ۶۰ روز کی مہلت ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور جوہری معاملے پر بامقصد بات چیت کے لیے طے کی گئی تھی۔ تاہم، امریکی انتظامیہ کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزی کے باعث فریقین کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہی نہ ہو سکا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ ہموار کرنے کے لیے اس وقت صرف پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششیں جاری ہیں اور ان دونوں ممالک کے علاوہ کوئی اور فریق ثالث کا کردار ادا نہیں کر رہا۔

دوسری جانب صورتِ حال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم ترین بحری گزرگاہ "آبنائے ہرمز" کو کھولنا امریکا کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر مکمل اور بلا مشروط عملدرآمد سے مشروط ہوگا۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک بیان میں تاکید کی ہے کہ ایران نے مکمل وقار اور طاقت کے ساتھ امریکا کے ساتھ اس مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس سفارتی عمل کے دوران رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے وضع کردہ بنیادی اصولوں کو مکمل طور پر مدِ نظر رکھا گیا تھا اور تہران اپنے قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔