حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): جڑواں شہروں میں ہونے والی شدید بارش کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی، جس کے باعث انتظامیہ نے اطراف کی آبادیوں کو محتاط رہنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کردی۔
ذرائع کے مطابق کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح 22 فٹ سے تجاوز کرگئی، جس کے بعد نشیبی علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے جبکہ ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔
نالہ لئی کے اطراف رہائش پذیر افراد کو ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر انخلا کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ صادق آباد اور ڈھوک الٰہی بخش سمیت مختلف علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
شدید بارش کے باعث مری روڈ اور راول روڈ پر بھی پانی جمع ہوگیا، جس سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب گولڑہ میں سب سے زیادہ 113 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد مختلف نشیبی علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ادھر مقبوضہ جموں اور بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید بارشوں کے باعث شکرگڑھ کے نالہ بئیں میں بھی پانی کی سطح بلند ہوگئی اور سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی۔
نالے میں طغیانی کے باعث درجن سے زائد دیہات کی فصلیں زیرِ آب آگئیں، جس سے زرعی اراضی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ اور گڈو بیراج کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم دیگر دریاؤں میں مجموعی صورتحال معمول کے مطابق ہے۔
بارشوں کے باعث متعلقہ اداروں کو نشیبی علاقوں اور دریاؤں و ندی نالوں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو برساتی نالوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔