حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پاک،ترک، سعودی معاہدہ مکہ نیک شگون ہے ، مزید تقویت دینے کےلیے ایران کو بھی شامل کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان Home / سیاست /

پاک،ترک، سعودی معاہدہ مکہ نیک شگون ہے ، مزید تقویت دینے کےلیے ایران کو بھی شامل کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان

ایڈیٹر - 09/08/2026
پاک،ترک، سعودی معاہدہ مکہ نیک شگون ہے ، مزید تقویت دینے کےلیے ایران کو بھی شامل کیا جائے، حافظ نعیم الرحمان

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مکہ مکرمہ میں ہونے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو عالم اسلام کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کو بھی اس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ مسلم ممالک کے درمیان ایک مضبوط مشترکہ دفاعی نظام تشکیل دیا جاسکے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ایران کی شمولیت سے مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے اور خطے میں ایک مؤثر دفاعی نیٹ ورک قائم کیا جاسکتا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے افغانستان کے معاملے کو بھی علاقائی تعاون کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے ایک جرگہ تشکیل دیا جائے جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، امن و امان اور دیگر اہم معاملات پر بات چیت کے ذریعے قابلِ عمل حل تلاش کرے۔

خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش

حافظ نعیم الرحمان نے خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا بھی ذکر کیا، جس میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا اور داخلی حالات کو بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ بیرونی قوتوں کو مداخلت کا موقع نہ ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوسکا، جبکہ جنوبی اضلاع میں تعلیمی اداروں کی بندش اور افغان سرحد پر تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بھی تشویشناک صورتحال ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور سرحدی و سیکیورٹی مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جائے۔

مہنگائی اور پٹرول کی قیمت پر حکومت کو تنقید

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 25 کروڑ عوام پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں اور ان پر مزید مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مختلف ٹیکسز کے ذریعے عوام سے بھاری رقم وصول کی جا رہی ہے، جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

ان کے مطابق ایف بی آر میں مبینہ بدعنوانی اور ناقص نظام کا بوجھ بھی بالآخر عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

16 اگست کو ملک گیر دھرنوں کا اعلان

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 7 اگست کو مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج بھرپور اور تاریخی نوعیت کا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 16 اگست کو ملک بھر میں دھرنے دیے جائیں گے۔

انہوں نے نوجوانوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی جماعت اسلامی کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔

پٹرول 225 روپے فی لیٹر کرنے کا مطالبہ

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروری اشیا پر عائد اضافی ٹیکسز ختم کیے جائیں اور پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے۔

انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے اسے نااہلی اور کرپشن کا مجموعہ قرار دیا اور کہا کہ نجی بجلی گھروں کے خلاف جماعت اسلامی کی احتجاجی مہم کامیاب رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج عوام کا آئینی حق ہے اور جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل، مہنگائی میں کمی اور حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔