حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پاک سعودی ترک دفاعی معاہدے پر ترکیہ کی بڑی وضاحت، ایران دشمن نہیں، خطے میں نیا دفاعی اتحاد بنانے کی تیاری Home / بین الاقوامی /

پاک سعودی ترک دفاعی معاہدے پر ترکیہ کی بڑی وضاحت، ایران دشمن نہیں، خطے میں نیا دفاعی اتحاد بنانے کی تیاری

ایڈیٹر - 09/08/2026
پاک سعودی ترک دفاعی معاہدے پر ترکیہ کی بڑی وضاحت، ایران دشمن نہیں، خطے میں نیا دفاعی اتحاد بنانے کی تیاری

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے نئے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ یہ سمجھوتا ایران یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف نہیں کیا گیا، جبکہ معاہدے میں کسی ملک کو مشترکہ دشمن یا خطرے کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی دستاویز میں کسی مخصوص ملک کو مشترکہ خطرہ قرار نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق جو ریاست پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ پر حملہ نہیں کرتی، اسے اس دفاعی معاہدے کا ہدف تصور نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے گزشتہ جمعے کو مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

ہاکان فیدان نے اس شق کو تکنیکی لحاظ سے نیٹو کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مشابہ قرار دیا۔ ان کے مطابق مقصد تینوں ممالک کی سلامتی کو مضبوط بنانا اور خطے کے ممالک کو اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود اٹھانے کے قابل بنانا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ خطے میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت اکثر مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ انقرہ کی کوشش ہے کہ علاقائی ممالک اپنی سلامتی اور دفاع کے معاملات میں باہمی تعاون کو فروغ دیں۔

تین ممالک سے آگے تعاون بڑھانے کا منصوبہ

ہاکان فیدان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اس نئے دفاعی تعاون کے بنیادی فریق ہیں، تاہم اسے مستقبل میں دیگر ممالک تک وسعت دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متعدد ممالک نے اس نظام میں شمولیت کے حوالے سے دلچسپی ظاہر کی ہے اور مصر کو ممکنہ طور پر اس تعاون میں شامل ہونے والے اہم ممالک میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بعض تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد مصر کی شمولیت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

حملے کی صورت میں مدد کیسے ملے گی؟

ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متاثرہ ملک کو پہلے باضابطہ طور پر مدد طلب کرنا ہوگی اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ اسے کس نوعیت کی معاونت درکار ہے۔

ان کے مطابق مدد کا دائرہ خفیہ معلومات کے تبادلے، فوجی رسد اور گولہ بارود کی فراہمی سے لے کر ضرورت پڑنے پر فوجی دستوں کی تعیناتی تک وسیع ہوسکتا ہے۔

معاہدے کے عملی نفاذ کے لیے سیاسی اور عسکری سطح پر مختلف مشترکہ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی۔ ان میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت شامل ہوگی، جبکہ سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

فوجی تربیت اور دفاعی صنعت میں تعاون

نئے دفاعی ڈھانچے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی تربیت، خفیہ معلومات کے تبادلے، فوجی رسد اور ممکنہ خطرات کے مشترکہ جائزے پر بھی کام کریں گے۔

تینوں ممالک دفاعی صنعت میں تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کی فوجی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے امکانات بھی تلاش کریں گے۔ اس طرح یہ معاہدہ محض ایک سیاسی اعلان کے بجائے بتدریج ایک منظم علاقائی دفاعی تعاون کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

ہاکان فیدان کے مطابق اس معاہدے پر تقریباً دو سال اور آٹھ ماہ سے کام جاری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طویل تیاری سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سمجھوتا ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں اچانک وجود میں نہیں آیا۔

ایران میں معاہدے پر تحفظات

دوسری جانب ایران میں بعض سیاسی رہنماؤں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمود نبیویان نے کہا کہ سعودی قیادت کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون بھی اس کی مکمل سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔

کمیٹی کے ایک اور رکن ابراہیم رضائی نے معاہدے کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے اسے محض ایک کاغذی سمجھوتا قرار دینے کی کوشش کی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اسی روز ایک بیان میں خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنے دفاع کو مضبوط بنائیں۔ اگرچہ انہوں نے براہِ راست پاک سعودی ترک معاہدے کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ایرانی مسلح افواج کی دفاعی صلاحیت اور تیاری پر بھی زور دیا۔

ترک مؤقف کے مطابق نیا دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ بنانے کے بجائے علاقائی ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع، عسکری تعاون اور باہمی سلامتی کا نیا نظام تشکیل دینے کی کوشش ہے، تاہم اس کے عملی خدوخال آنے والے عرصے میں مزید واضح ہوں گے۔