حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
لاہور میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت کا معمہ حل، پولیس نے حیران کن انکشاف کر دیا Home / پاکستان /

لاہور میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت کا معمہ حل، پولیس نے حیران کن انکشاف کر دیا

ایڈیٹر - 31/07/2026
لاہور میں ماں اور تین بچوں کی ہلاکت کا معمہ حل، پولیس نے حیران کن انکشاف کر دیا

ویب ڈیسک: لاہور، کاہنہ میں امریکی شہریت رکھنے والی خاتون اور اس کے تین بچوں کی پراسرار ہلاکتوں کے کیس میں پولیس نے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے واقعے کی اصل وجہ سامنے آنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حکام کے مطابق دستیاب فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور دیگر ثبوتوں سے معلوم ہوا کہ خاتون نے مبینہ طور پر ممنوعہ زہریلا کیمیکل آئس کریم میں ملا کر پہلے اپنے تین بچوں کو کھلایا اور بعد ازاں خود بھی وہی آئس کریم کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

پریس کانفرنس کے دوران پولیس کے تحقیقاتی سربراہ سید ذیشان رضا نے بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش جدید فرانزک تجزیے، نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ اور ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے کی گئی۔ ان کے مطابق تحقیقات کے نتیجے میں آن لائن ممنوعہ کیمیکل فروخت کرنے والے ایک دکاندار اور کیمیکل پہنچانے والے ایک رائیڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

پولیس کے مطابق خاتون نے کئی ماہ قبل انٹرنیٹ پر خودکشی کے طریقوں سے متعلق معلومات تلاش کرنا شروع کی تھیں۔ بعد ازاں اس نے آن لائن رابطے کے ذریعے پوٹاشیم سائنائیڈ خریدا اور ادائیگی رقم کی منتقلی کی ایک سروس کے ذریعے کی۔

تحقیقات کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ امریکا سے لاہور آئی تھی اور ایک کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھی۔ مبینہ طور پر اس نے کیمیکل کا پارسل اپنی ایک سہیلی کے پتے پر منگوایا اور اگلے روز ملاقات کے دوران وصول کیا، جبکہ سہیلی اس پارسل کے مندرجات سے لاعلم تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے مبینہ طور پر زہریلا کیمیکل آئس کریم میں شامل کر کے اپنے پندرہ سالہ بیٹے ریحان، گیارہ سالہ بیٹی اریشا اور نو سالہ بیٹے ارسل کو کھلایا، پھر خود بھی وہی آئس کریم کھا لی۔ پولیس کے مطابق خاتون نے اپنے شوہر کو بھی یہی آئس کریم دینے کی کوشش کی، تاہم وہ محفوظ رہے۔

سید ذیشان رضا کے مطابق مقتولہ کے شوہر کا پولی گراف ٹیسٹ بھی کیا گیا اور ہر ممکن پہلو سے تفتیش کی گئی، تاہم اب تک کے تمام شواہد اسی نتیجے کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واقعہ قتل کے بعد خودکشی کا تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ خاتون شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور اس کا علاج جاری تھا۔ پولیس کے مطابق وہ ڈپریشن کی ادویات استعمال کر رہی تھی اور غالب امکان ہے کہ وہ پورے خاندان کی زندگی ختم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

پولیس حکام نے مزید بتایا کہ متاثرہ خاندان کو اگلے روز سیالکوٹ روانہ ہونا تھا، جبکہ خاتون نے اس سے پہلے روزمرہ اشیائے ضروریہ کے ساتھ ممنوعہ کیمیکل بھی حاصل کیا تھا۔

چونکہ متاثرہ خاندان امریکی شہریت رکھتا تھا، اس لیے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نے بھی اہلِ خانہ سے ملاقات کی اور کیس سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ جدید تفتیشی طریقوں کی مدد سے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا گیا ہے اور گرفتار ملزمان کے خلاف مضبوط شواہد کے ساتھ عدالت میں چالان پیش کیا جائے گا۔