حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
کم عمر شادی قانون کو چیلنج، وفاقی شرعی عدالت نے درخواست پر لگایا گیا اعتراض ختم کر دیا Home / پاکستان /

کم عمر شادی قانون کو چیلنج، وفاقی شرعی عدالت نے درخواست پر لگایا گیا اعتراض ختم کر دیا

ایڈیٹر - 31/07/2026
کم عمر شادی قانون کو چیلنج، وفاقی شرعی عدالت نے درخواست پر  لگایا گیا اعتراض ختم کر دیا

ویب ڈیسک: وفاقی شرعی عدالت نے پنجاب میں 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی کو جرم قرار دینے والے قانون کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار آفس کا اعتراض ختم کرتے ہوئے مقدمہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔

درخواست مفتی محمد اسلم نے اپنے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی ہے، جس میں گورنر پنجاب بذریعہ سیکرٹری سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کی بعض شقیں آئین اور اسلامی شریعت سے متصادم ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 18 سال سے کم عمر نکاح کو قابلِ سزا جرم قرار دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور ریاست کو شرعی معاملات میں اس نوعیت کی قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 18 سال سے کم عمر نکاح پر سزا سے متعلق قانون کی متعلقہ شقوں کو کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ حتمی فیصلے تک اس قانون پر عملدرآمد بھی معطل کرنے کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ ابتدا میں درخواست پر یہ اعتراض عائد کیا گیا تھا کہ اس میں ایک آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا ہے، جبکہ بعد ازاں وہ آرڈیننس اسمبلی سے منظور ہو کر باقاعدہ قانون بن چکا تھا۔ درخواست گزار نے اس اعتراض کے بعد اپنی درخواست میں ضروری ترمیم کر کے دوبارہ جمع کرائی، جس کے بعد رجسٹرار نے اعتراض ختم کرتے ہوئے کیس کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔