حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
جنوبی وزیرستان میں منشیات کے بڑھتے پھیلاؤ پر خطرے کی گھنٹی، شہریوں کا بڑا آپریشن اور کریک ڈاؤن کا مطالبہ Home / قبائلی اضلاع /

جنوبی وزیرستان میں منشیات کے بڑھتے پھیلاؤ پر خطرے کی گھنٹی، شہریوں کا بڑا آپریشن اور کریک ڈاؤن کا مطالبہ

ایڈیٹر - 27/07/2026
جنوبی وزیرستان میں منشیات کے بڑھتے پھیلاؤ پر خطرے کی گھنٹی، شہریوں کا بڑا آپریشن اور کریک ڈاؤن کا مطالبہ

ویب ڈیسک: جنوبی وزیرستان میں منشیات کے بڑھتے استعمال اور مبینہ غیرقانونی کاروبار نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ وانا اور اس کے گردونواح میں منشیات کی دستیابی اور فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث نوجوان نسل بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

شہریوں کے مطابق مختلف بازاروں اور عوامی مقامات پر منشیات کی مبینہ خرید و فروخت کے باعث طلبہ اور نوجوان اس لعنت کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس سے معاشرتی مسائل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو اس کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

مقامی افراد کا مؤقف ہے کہ منشیات کے بڑھتے رجحان نے کئی خاندانوں کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ نوجوانوں کی تعلیم، صحت اور سماجی زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

شہریوں نے حکومت، پولیس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروش عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور مستقل نگرانی کے ذریعے ایسے نیٹ ورکس کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق وقتی چھاپوں کے بجائے مربوط حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

عوامی حلقوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں، جبکہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں منشیات کے نقصانات سے متعلق آگاہی مہمات کو بھی مؤثر بنایا جائے تاکہ نوجوانوں کو اس خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

دوسری جانب بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ چند منشیات فروشوں کے مبینہ سہولت کاروں کے ساتھ بعض پولیس اہلکاروں کے روابط موجود ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

پولیس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ منشیات فروشوں کے خلاف مسلسل کارروائیاں کر رہا ہے اور متعدد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ منشیات کے خاتمے کے لیے عوامی تعاون ناگزیر ہے، کیونکہ شہریوں کی بروقت اطلاعات ہی ایسے نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔