حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا نے دنیا بھر کے ویزا درخواست گزاروں کی اپائنٹمنٹس مؤخر کر دیئے ، نئی تاریخیں بعد میں ملیں گی Home / بین الاقوامی /

امریکا نے دنیا بھر کے ویزا درخواست گزاروں کی اپائنٹمنٹس مؤخر کر دیئے ، نئی تاریخیں بعد میں ملیں گی

ایڈیٹر - 27/08/2026
امریکا نے دنیا بھر کے ویزا درخواست گزاروں کی اپائنٹمنٹس مؤخر کر دیئے ، نئی تاریخیں بعد میں ملیں گی

حسبان میڈیا (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے امریکا کا ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی متعدد اپائنٹمنٹس عارضی طور پر مؤخر کردی ہیں، جس کے باعث پہلے سے طے شدہ انٹرویوز کی نئی تاریخیں مقرر کی جائیں گی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دنیا بھر میں قائم امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں قونصلر عملے کے لیے ایک عالمی تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس تربیتی عمل کے دوران ویزا خدمات سے متعلق شیڈول میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ تمام امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں عملے کی تربیت جاری ہے، تاہم پروگرام کی تفصیلات اور اس کی مدت کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکی حکام کے مطابق تربیت کا بنیادی مقصد قونصلر افسران کو ایسے ویزا درخواست گزاروں کی بہتر شناخت کے لیے تیار کرنا ہے جو مستقبل میں امریکی عوامی فلاحی پروگراموں پر انحصار کرسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ درخواستوں کی یکساں، جامع اور مؤثر جانچ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق امیگرنٹ ویزا کے لیے پہلے سے انٹرویو کی تاریخ حاصل کرنے والے بعض افراد کو امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی جانب سے ای میلز موصول ہوئی ہیں، جن میں انہیں بتایا گیا ہے کہ ان کے انٹرویوز دوبارہ مقرر کیے جارہے ہیں۔ نئی تاریخوں سے متعلق معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے دوران امریکی حکومت نے امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی اختیار کررکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت ویزوں اور گرین کارڈز کی منسوخی سمیت مختلف بنیادوں پر امیگریشن درخواستوں کی جانچ اور مسترد کیے جانے کے اقدامات میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امیگریشن سے متعلق سخت اقدامات کا مقصد قومی اور داخلی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو عدالتی محاذ پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 22 اگست کو ایک امریکی جج نے 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزا پراسیسنگ روکنے سے متعلق انتظامی پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ یہ اقدام وزیر خارجہ مارکو روبیو کے قانونی اختیارات سے تجاوز کرتا ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے امریکی حکومت کی امیگریشن پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے امتیازی جانچ، آزادی اظہار اور قانونی طریقہ کار سے متعلق حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی حکومت کے اقدامات کا دائرہ قانونی امیگریشن تک بھی پھیل گیا ہے، جس میں بعض ورک ویزا درخواست گزاروں پر اضافی اور بھاری فیسیں عائد کرنے کے فیصلے بھی شامل ہیں۔