ضلع مہمند زہریلی ادویات سے خودکشی کے واقعات میں اضافہ. گزشتہ تین ماہ کے دوران 41 کیسز رپورٹ، ایک درجن سے زائد افراد جاں بحق، ریسکیو ذرائع
ضلع مہمند میں زہریلی زرعی ادویات، خصوصاً گندم میں استعمال ہونے والی زہریلی گولیوں کے استعمال سے مبینہ خودکشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے. ریسکیو ذرائع کے مطابق گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں سے زہریلی دوا کھانے کے 41 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں ایک درجن سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے.
ریسکیو ذرائع کے مطابق کمالی حلیم زئی کے علاقے باروخیل میں 23 سالہ راحید نے مبینہ طور پر زہریلی دوا گندم کی گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی. جسے تشویشناک حالت میں غلنئی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں اسے علاج کے لیے پشاور منتقل کر دیا گیا.
ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کے مختلف علاقوں میں زرعی ادویات کی فروخت بعض مقامات پر مبینہ طور پر بغیر لائسنس جاری ہے، جبکہ محکمہ زراعت نے بغیر لائسنس زرعی ادویات اور بیجوں کا کاروبار کرنے والوں کو خبردار کیا ہے
کہ وہ اپنا ڈیٹا محکمہ زراعت کے پاس جمع کروا کر باقاعدہ تربیت حاصل کریں اور قانونی تقاضے پورے کریں. ذرائع کے مطابق زہریلی گندم کی گولیاں بعض عام کریانہ اسٹورز پر بھی دستیاب ہونے کا انکشاف ہوا ہے
جس سے ان کے غلط استعمال اور انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے.
ریسکیو ذرائع نے عوام اور زرعی ادویات کے کاروبار سے وابستہ افراد پر زور دیا ہے کہ زہریلی زرعی ادویات کو انتہائی احتیاط کے ساتھ محفوظ مقامات پر رکھا جائے اور انہیں بچوں و غیر متعلقہ افراد کی پہنچ سے دور رکھا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے