گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا وزیراعظم کو خط، ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کو ایک باقاعدہ مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے صوبے کے ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا (PATA) کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ کو فوری طور پر بحال اور اس میں مزید توسیع کرنے کی پرزور درخواست کی ہے۔
خط میں گورنر خیبرپختونخوا نے موقف اختیار کیا ہے کہ انضمام کے وقت وفاقی حکومت کی جانب سے قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے حالیہ نفاذ پر فوری نظرثانی کی جائے۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے پہلے ہی اپنے دائرہ اختیار کے تحت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکسز ختم کر دیے ہیں، تاہم جب تک وفاقی ٹیکسز کا خاتمہ نہیں ہوتا، قبائلی عوام کو مکمل معاشی ریلیف فراہم کرنا ممکن نہیں ہے۔
گورنر نے خط میں تجویز پیش کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی جائے جو ان علاقوں کی معاشی و مالی صورتحال کا گہرائی سے جائزہ لے، اور اس اہم معاملے کو مشترکہ مفادات کونسل (CCI) یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، لہٰذا وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی ان کا ریاست پر اعتماد بحال کرے گی اور اس ٹیکس ریلیف سے پسماندہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی سمیت انہیں قومی دھارے میں لانے کا عمل تیز تر ہو سکے گا۔